میری رشتے دار طوافِ وداع کر کے آ گئی ہیں مگر ان کا وضو نہیں تھا , اب اُنکو پتہ چلا ہے تو اُن کو علماء نے دَم دینے کا بُولا ہے, مگر کوئی جاننے والا نہیں جا رہا تو وہ خود maakah جاکر دم دیںگی نومبر میں, کیا وہ حرم جا کر پہلے عمرہ ادا کریں پھر دم دیں؟ یا میقات پر عمرہ کی نیت کرکے پہلے دم دیں اور پھر عمرہ ادا کریں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور خاتون پر دم لازم ہوچکاہے،لہذا اگر کوئی جاننے والا نہ ہو جسکے ذریعہ دم ادا ہوسکے, تو سائلہ کے از خود جانے کی صورت میں بہتر یہی ہےکہ پہلے دم ادا کرے اور پھر باقی افعال کرلے،تاہم اگر وہ پہلےعمرہ کریں اور پھر دم دیں تو شرعاً اس میں بھی کوئی حرج نہیں -