احکام نماز

میت کی طرف سے قضاء نمازیں پڑھنا

فتوی نمبر :
6717
| تاریخ :
2009-08-09
عبادات / نماز / احکام نماز

میت کی طرف سے قضاء نمازیں پڑھنا

السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دوست کے والد جو کچھ عرصہ پہلے ہی انتقال کر گئے ہیں ، ان کی زندگی میں بہت سی قضاء نمازیں ہیں، (اللہ ہم سب کو نماز پابندی سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائیں) میرے دوست نے مجھ سے پوچھا کہ اس کے والد کی موت کے بعد کیا وہ ان کی قضاء نمازیں پڑھ سکتا ہے؟ جس سے روزِ محشر کے دن اس کے والد سے ان نمازوں کا سوال نہ ہوگا ، جو ان کی موت کے بعد ان کے بیٹے نے پڑھ دی تھیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نماز کا تعلق ان عبادات سے ہے جو محض بدنی ہیں اور ایسی عبادات میں نیابت شرعاً جائز نہیں، اس لیے سائل کا اپنے والد کی طرف سے نماز پڑھنا یا نہ پڑھنا برابر ہے، البتہ اگر اسے وسعت ہو اور وہ اپنے طور پر اپنے مال سے والد مرحوم کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ دینا چاہے، تو اس کے بارے میں اُمید کی جا سکتی ہے کہ رب کریم اُسے قبول فرما کر مرحوم سے ان نمازوں کا مواخدہ نہ فرمائیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الهدایة: والعبادات انواع مالیة محضة کالزکاة وبدنیه محضة کالصلاة ومرکبة منهما کالحج والنیابة تجری فی النوع الاوّل فی حالتی الاختیار والضرورة لحصول المقصود ولا تجری فی النوع الثانی بحال اھ (۱/ ۲۹۶) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کلیم اللہ جان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 6717کی تصدیق کریں
0     601
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات