احکام نماز

مجھے حنفی نماز کر کے دلائل مطلوب ہیں

فتوی نمبر :
6462
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

مجھے حنفی نماز کر کے دلائل مطلوب ہیں

مہربانی کر کے مجھے نمازِ حنفیہ کا حوالہ ارسال کرے، میں نے بخاری شریف کا مطالعہ کیا وہاں اہلِ حدیث کا طریقہ (رفعِ یدین) موجود ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بخاری میں آپ نے ابو حمید ساعدیؓ کی روایت جس میں ترک رفع الیدین کا تذکرہ ہے نہیں پڑھی ورنہ آپ کو یہ سوال کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی، اس کے بعد واضح ہو کہ نماز کا تفصیلی طریقہ کسی ایک روایت میں نہیں ملتا، بلکہ کتبِ احادیث میں منتشر اور متفرق طور پر پایا جاتا ہے۔جسے عطاء نے ترتیب وار اپنی کتبِ میں درج فرمایا ہے۔ نمازِ حنفی کے لیے رسول اللہﷺ کی نماز اور نماز کے متفرق مسائل جیسے رفع الیدین، قرأت خلف الامام وغیرہ کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ فرمائیں:۱۔ مجموعہ رسائل، ۲۔ تجلیاتِ صفدر، ۳۔ ہم نماز میں ہاتھ کیوں نہیں اُٹھاتے، ۴۔رفع الیدین، ۵۔ اختلاف امت اور صراط مستقیم وغیرہ

مأخَذُ الفَتوی

ففی صحيح البخاري: عن محمد بن عمرو بن عطاء، وحدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حبيب، ويزيد بن محمد، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو بن عطاء، أنه كان جالسا مع نفر من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فذكرنا صلاة النبي صلى الله عليه وسلم، فقال أبو حميد الساعدي: أنا كنت أحفظكم لصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم «رأيته إذا كبر جعل يديه حذاء منكبيه، وإذا ركع أمكن يديه من ركبتيه، ثم هصر ظهره، فإذا رفع رأسه استوى حتى يعود كل فقار مكانه، فإذا سجد وضع يديه غير مفترش اھ (1/ 165)
وفی صحيح مسلم: عن جابر بن سمرة، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ اسكنوا في الصلاة» اھ (1/ 322)
وفی اعلاء السنن: تحت هذا الحدیث: فهذا بعمومه یقتضی ترك الرفع عند الرکوع وبعده ولا یقتضی ترکه عند الإفتتاح فإنه لیس برفع فی الصلاة بل خارجا منها اهـ (۳/ ۴۴)
وفی سنن الترمذي: عن علقمة، قال: قال عبد الله بن مسعود: ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة. اھ (1/ 343)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ ریحان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 6462کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات