السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
محترم مفتی صاحب! میرے سسر محترم جن کی عمر تقریباً 75 سال سے زائد ہے اور وہ مندرجہ ذیل بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں: (۱) عارضہ قلب گزشتہ دو سال سے اور انجیو پلاسٹی ہوچکی ہے، (۲) گھٹنوں کی شدید تکلیف میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹر نے دونوں گھٹنوں کا آپریشن تجویز کیا ہے، اسی وجہ سے گزشتہ ایک سال سے مسجد جانے سے قاصر ہیں اور گھر پر ہی کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں اس کے علاوہ مسجد آتے جاتے ایک دو مرتبہ گِر بھی چکے ہیں ورنہ اس تکلیف سے پہلے باقاعدگی سے تمام نمازیں مسجد میں ادا کرتے تھے۔ (۳) اب گزشتہ کچھ عرصے سے پیشاب کی تکلیف میں بھی مبتلا ہیں اور اکثر و بیشتر بلا ارادہ پیشاب نکل جاتا ہے کبھی دورانِ نماز یا کبھی باتھ روم جاتے ہوئے اور کبھی بیٹھے ہوئے بھی، ان وجوہات کی بناء پر وہ بار بار کپڑے تبدیل کرکے نمازوں کا اعادہ کرتے ہیں اور اکثر یہ صورتحال ایک نماز میں دو سے تین بار بھی ہوجاتی ہے ،کیونکہ جب کرسی سے اٹھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے اور بغیر نماز بھی پیشاب تھوڑا بہت خطا ہوجاتا ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا، میرا سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں کیا وہ نمازوں کو جمع کرسکتے ہیں؟ اگر جمع کرسکتے ہیں تو کیا طریقہ کار ہوگا؟ کیا ایک وضو سے پوری نماز پڑھ سکتے ہیں یا وضو کا اعادہ کرنا ہوگا؟ اور اگر دورانِ نماز وضو ساقط ہوجائے بوجہ پیشاب نکل جانے کے تو کیا ہر دفعہ کپڑے تبدیل کرنا ہوں گے؟ کیونکہ ضعف اور کمزوری کی بناء پر بار بار کپڑے تبدیل کرنا اور وضو کرنا ان کیلئے بہت مشقت طلب کام ہے۔ والسلام۔ کاشف
جو صورت سائل نے بیان کی ہے اگر اس بیماری کے دوران سائل کے سسر کو کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کی وجہ سے اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکے تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کے حکم میں داخل ہوجائے گا، اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگی ظہر کیلئے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نماز ظہر ادا کرسکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط ظہر کے فرائض ادا کرے، اس کے بعد نماز عصر کی ادائیگی کیلئے پوراو قت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ عصر کا وقت داخل ہونے کے بعد وضو کرکے نماز عصر ادا کرے، اس دوران اگر کچھ قطرے گِر بھی جائیں تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی ایسا ہی کرے، کہ ہر نماز کیلئے الگ الگ وضو کرلیا کرے، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اس دوران اگر پوراو قتِ نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گا، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے، اور مذکور صورت میں اسے بار بار کپڑے تبدیل کرنے کی بھی ضرورت نہ ہوگی، لیکن اس عذر کی وجہ سے سائل کے سسر کیلئے دو یا دو سے زیادہ نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرکے پڑھنا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: قال أصحابنا: إنہ لا یجوز الجمع بین فرضین فی وقت أحدہما إلا بعرفۃ والمزدلفۃ فیجمع بین الظہر والعصر فی وقت الظہر بعرفۃ، وبین المغرب والعشاء فی وقت العشاء بمزدلفۃ، اتفق علیہ رواۃ نسک رسول اللہ ﷺ أنہ فعلہ، ولا یجوز الجمع بعذر السفر والمطر۔ اھـ (ج۱، ص۱۲۶)۔
وفی البحر الرائق: قولہ (وعن الجمع بین الصلاتین فی وقت بعذر) أی منع عن الجمع بینہما فی وقت واحد بسبب العذر للنصوص القطعیۃ بتعیین الأوقات فلا یجوز ترکہ إلا بدلیل مثلہ۔ اھـ (ج۱، ص۲۶۷)۔
وفی التنویر: وصاحب عذر من بہ سلسل أو استطلاق بطن أو انفلات ریح أو استحاضۃ إن استوعب عذرہ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ (إلی قولہ) وحکمہ الوضوء لا غسل ثوبہ لکل فرض ثم یصلی فیہ فرضا ونفلا فإذا خرج الوقت بطل۔ اھـ (ج۱، ص۳۰۵)۔
وفی الہندیۃ: ومن بہ سلسل البول أو استطلاق البطن أو انفلات الریح أو رعاف دائم أو جرح لا یرقأ یتوضئون لوقت کل صلاۃ ویصلون بذلک الوضوء فی الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل ہکذا فی البحر الرائق۔ اھـ (ج۱، ص۴۱)۔
وفی البدائع الصنائع: ہذا الذی ذکرناہ حکم صاحب العذر، وأما حکم نجاسۃ ثوبہ فنقول إذا أصاب ثوبہ من ذلک أکثر من قدر الدرہم یجب غسلہ إذا کان الغسل مفیدا بأن کان لا یصیبہ مرۃ بعد أخری حتی لو لم یغسل، وصلی لا یجوز، وإن لم یکن مفیدا لا یجب ما دام العذر قائما، وہو اختیار مشایخنا۔ اھـ (ج۱، ص۲۹)۔
وفی الہندیۃ: إذا کان بہ جرح سائل وقد شد علیہ خرقۃ فأصابہا الدم أکثر من قدر الدرہم أو أصاب ثوبہ إن کان بحال لو غسلہ یتنجس ثانیا قبل الفراغ من الصلاۃ جاز أن لا یغسلہ وصلی قبل أن یغسلہ وإلا فلا ہذا ہو المختار ہکذا فی المضمرات۔ اھـ (ج۱، ص۴۱)۔ واللہ اعلم