جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
میں ایک ملازم ہوں اور جہاں میں ملازمت کر رہا ہوں وہ جگہ میے گاؤں سے تقریباً ۱۲۰ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، میری ہفتے میں ۲ دن چھٹی ہوتی ہے، یعنی ہفتہ اور اتوار کو اور میں ہفتے میں ۵ دن ڈیوٹی کرتا ہوں اور یہی ۵ دن میرا وہاں ہوتا ہے یعنی ہفتہ اور اتوار کو میں گاؤں ہوتا ہوں، اور میری سروس اگر اللہ نے چاہا تو ۲۵ سے ۳۰ سال تک ہو سکتی ہے تو کیا ان ۵ دنوں کے دوران میں مسافر ہوں گا یا مقیم؟ جناب میں ڈیوٹی کے دوران سفرانہ نماز ادا کروں یا میں مقیم ہوں؟
میری ملازمت کے پانچ سال پورے ہوگئے ہیں اور ان ۵ سال کے دوران کبھی بھی میں نے یہاں ۵ دن سے زیادہ قیام نہیں کیا اور یہاں میں ابھی تک پوری نماز پڑھ رہا تھا، لیکن مجھے ایک دوست نے بتایا کہ آپ کا قیام ۵ دن سے کم ہوتا ہے تو اس لیے تم مسافر ہو اور آپ نے سفرانہ نماز ادا کرنی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہاں مسجدمیں باقاعدہ کوئی امام نہیں ہے اور کبھی کبھار میں جماعت کراتا ہوں (خاص کر ظہر، عصر اور مغرب) تو کیا میں جماعت کروا سکتا ہوں؟ براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دے کر ثواب دارین حاصل کریں کہ کیا میں سفرانہ نماز ادا کروں یا میں مقیم ہوں؟ میں بہت پریشان ہوں جلد از جلد جواب ارسال فرما دیں۔
سائل جب تک پندرہ یا اس سے زائد دنوں کے ارادے سے وہاں قیام نہ کرے وہ بدستور مسافر رہےگا اور اپنی تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں قصر کرےگا۔
مذکور گزشتہ مدت کے دوران جتنی مرتبہ سائل نے ظہر یا عصر کی نماز چار رکعات پرھائی ہیں، سائل کی اقتداء میں مقیمین کی اتنی نمازیں شرعاً اداء نہیں ہوئیں، اُن پر ان نمازوں کا لوٹانا لازم ہے، جبکہ خود سائل اس طرح ملانے سے اگرچہ گناہ گار ہوا ہے، مگر اس پر ان نمازوں کا لوتانا لازم نہیں، ہاں وقت کے اندر اندر یاد آنے کی صورت میں اس نماز کا لوٹانا واجب ہے، البتہ آئندہ کے لیے اُسے چار رکعت والی نماز میں امامت کی بجائے صرف دو یا تین رکعات والی نماز امامت کرے۔
ففی الدر المختار: من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدا مسيرة ثلاثة أيام ولياليها (إلی قوله) صلی الفرض الرباعی رکعتین اھ (2/ 122)
وفی الدر المختار: (فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض، وهذا لا يحل اھ (2/ 128)
وفی البحر الرائق: إذا إقتدی بالإمام لا یدری أمسافر هو أم مقیم لا یصح (إلی قوله) رجل صلی أم مقیم فصلاتهم فاسدة اھ (۲/ ۱۳۵) واللہ أعلم بالصواب!