(۱) ظہر کی پہلی والی چار سنتیں اگر کسی آدمی کی رِہ گئیں اور وہ جماعت میں شریک ہوگیا تو اس کا کیا حکم ہے؟
(۲) اگر بعد میں جماعت کے بعد ادا کرلے تو اس کا کیا درجہ ہے ؟ سنت کا ہے یا نفل کی طرح بن گئیں ؟
(۳) ترتیب اگر مثلاً چار سنت کو مقدم کرنے اور دو کو بعد میں ادا کرے تو کیا حرج ہے؟
جماعت میں شریک ہونے کی وجہ سے اگر کسی شخص سے ظہر کی پہلی چار سنتیں رہ جائیں تو انہیں جماعت کے بعد ادا کرنا چاہئے اور بعد میں بھی اس کی حیثیت نفل کی نہیں بلکہ سنت ہی کی رہتی ہے، جبکہ ان چار رکعتوں کو ظہر والی دو سنتوں سے قبل ادا کرے یا بعد میں، شرعاً دونوں طرح جائز اور درست ہے، اس میں حرج نہیں، البتہ علامہ ابن الہمامؒ نے بعد کی دو رکعتوں کو رِہ جانے والی پہلی چار سنتوں پر مقدم کرنے کو ترجیح دی ہے۔