احکام نماز

جماعت کی وجہ سے ظہر کی سنت چھوٹ جائےتوبعد میں کس طرح اداکیاجائے؟

فتوی نمبر :
39481
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

جماعت کی وجہ سے ظہر کی سنت چھوٹ جائےتوبعد میں کس طرح اداکیاجائے؟

(۱) ظہر کی پہلی والی چار سنتیں اگر کسی آدمی کی رِہ گئیں اور وہ جماعت میں شریک ہوگیا تو اس کا کیا حکم ہے؟
(۲) اگر بعد میں جماعت کے بعد ادا کرلے تو اس کا کیا درجہ ہے ؟ سنت کا ہے یا نفل کی طرح بن گئیں ؟
(۳) ترتیب اگر مثلاً چار سنت کو مقدم کرنے اور دو کو بعد میں ادا کرے تو کیا حرج ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جماعت میں شریک ہونے کی وجہ سے اگر کسی شخص سے ظہر کی پہلی چار سنتیں رہ جائیں تو انہیں جماعت کے بعد ادا کرنا چاہئے اور بعد میں بھی اس کی حیثیت نفل کی نہیں بلکہ سنت ہی کی رہتی ہے، جبکہ ان چار رکعتوں کو ظہر والی دو سنتوں سے قبل ادا کرے یا بعد میں، شرعاً دونوں طرح جائز اور درست ہے، اس میں حرج نہیں، البتہ علامہ ابن الہمامؒ نے بعد کی دو رکعتوں کو رِہ جانے والی پہلی چار سنتوں پر مقدم کرنے کو ترجیح دی ہے۔


کما فی البحر الرائق: (قولہ وقضی التی قبل الظہر فی وقتہ قبل شفعہ) بیان لشیئین أحدہما القضاء والثانی محلہ أما الأول ففیہ اختلاف والصحیح أنہا تقضی کما ذکرہ قاضی خان فی شرحہ مستدلا بما عن عائشۃ أن النبی ﷺ ’’کان إذا فاتتہ الأربع قبل الظہر قضاہن بعدہ‘‘، وظاہر کلام المصنف أنہا سنۃ لا نفل مطلق وذکر قاضی خان أنہ إذا قضاہا فہی لا تکون سنۃ عند أبی حنفیۃ وعندہما سنۃ وتبعہ الشارح وتعقبہ فی فتح القدیر بأنہ من تصرف المصنفین فإن المذکور من وضع المسألۃ الاتفاق علی قضاء الأربع وإنما الاختلاف فی تقدیمہا أو تأخیرہا والاتفاق علی أنہا تقضی اتفاق علی وقوعہا سنۃ إلی آخر ما ذکرہ وأما الثانی فاختلف فیہ النقل عن الشیخین فذکر فی الجامع الصغیر للحسامی أن أبا یوسف یقدم الرکعتین ومحمد یؤخرہما وفی المنظومۃ وشروحہا علی العکس وفی غایۃ البیان ویحتمل أن یکون عن کل واحد من الإمامین روایتان ورجح فی فتح القدیر تقدیم الرکعتین لأن الأربع فاتت عن الموضوع المسنون فلا یفوت الرکعتین عن موضعہما قصدا بلا ضرورۃ۔ اھـ (ج۲، ص۸۵)۔ واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39481کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات