السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دوست کے والد جو کچھ عرصہ پہلے ہی انتقال کر گئے ہیں ، ان کی زندگی میں بہت سی قضاء نمازیں ہیں، (اللہ ہم سب کو نماز پابندی سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائیں) میرے دوست نے مجھ سے پوچھا کہ اس کے والد کی موت کے بعد کیا وہ ان کی قضاء نمازیں پڑھ سکتا ہے؟ جس سے روزِ محشر کے دن اس کے والد سے ان نمازوں کا سوال نہ ہوگا ، جو ان کی موت کے بعد ان کے بیٹے نے پڑھ دی تھیں۔
واضح ہو کہ نماز کا تعلق ان عبادات سے ہے جو محض بدنی ہیں اور ایسی عبادات میں نیابت شرعاً جائز نہیں، اس لیے سائل کا اپنے والد کی طرف سے نماز پڑھنا یا نہ پڑھنا برابر ہے، البتہ اگر اسے وسعت ہو اور وہ اپنے طور پر اپنے مال سے والد مرحوم کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ دینا چاہے، تو اس کے بارے میں اُمید کی جا سکتی ہے کہ رب کریم اُسے قبول فرما کر مرحوم سے ان نمازوں کا مواخدہ نہ فرمائیں۔
ففی الهدایة: والعبادات انواع مالیة محضة کالزکاة وبدنیه محضة کالصلاة ومرکبة منهما کالحج والنیابة تجری فی النوع الاوّل فی حالتی الاختیار والضرورة لحصول المقصود ولا تجری فی النوع الثانی بحال اھ (۱/ ۲۹۶) واللہ أعلم بالصواب!