السلام علیکم
مفتی صاحب میں نے اپنے بیٹے کا نام محمد ازہان(Azhaan)،اور بیٹی کا نام عیشل فاطمہ(Eshal Fatima) رکھا تھا اور میری بھانجی کا نام زمل فاطمہ (Zimal Fatima)ہے۔ہم نے یہ نام انٹرنیٹ سے اسلامی نام دیکھ کے رکھے تھے۔
آپ رہنمائی فرما دیں کیا یہ نام شرعی طور پہ ٹھیک اور اسلامی نام ہیں اور رکھنا جائز ہیں ؟
اذہان جمع ہے ذہن کی , جس کے معنی "سمجھنا"کے آتے ہیں،اس اعتبار سے یہ نام رکھنا تو جائز ہے،تاہم انبیاء کرام کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کرلیا جائے تو یہ زیادہ بہترہے۔
جبکہ "عیشل" کا لفظ تلاش کے باوجود کسی مستند لغت میں نہیں ملا،البتہ عشال(عین پر زبر اور شین پر تشدیدکے ساتھ) اور اسی سے عاشل استعمال ہوتاہے،جس کے معنی ہیں "اٹکل سے درست اندازہ لگانے والا"،اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا مناسب نہیں۔
اور زمل کے معنی" بوجھ ،پیچھے سوار ،کمزور ،سست و کاہل،بزدل و کمینہ" کے آتے ہیں،معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا بھی درست نہیں،البتہ صرف فاطمہ نام رکھ لیا جائے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں -