السلام علیکم!
میری ایک بیٹی ۲۵ محرم۱۴۳۲ھ نمطابق یکم جنوری ۲۰۱۱ء کو پیدا ہوئی، میں نے اس کا عقیقہ کیا اور اس کا نام ’’الیشبہ معین‘‘ رکھا، میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ اس نام کا لغت میں کوئی معنیٰ نہیں ہے، جبکہ میں نے یہ نام انٹرنیٹ سے لیا اور اس نام کا معنیٰ سورج کی روشنی، خوبصورت اور شہزادی بتایا گیا۔
(۱) میں تصدیق چاہتاہوں کہ اسلامی لغت میں ’’الیشبہ‘‘ نام کا کوئی معنیٰ ہے یا نہیں؟
(۲) کیا میں اپنی بچی کا نام تبدیل کرسکتاہوں؟
(۳) کیا آپ کچھ نام وغیرہ فراہم کرسکتے ہیں، اس کی پیدائش اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق یا پھر اردو کے کسی بھی حروفِ تہجی کی ابتدا سے جس کو میں اختیار کرسکوں؟
’’الیشبہ‘‘ عربی نام نہیں، بظاہر خود ساختہ بنایا ہوا معلوم ہوتاہے، اس لیے یہ نام تبدیل کرکے مذکور اسلامی ناموں میں سے کوئی بھی نام تجویز کرسکتے ہیں، اور وہ نام یہ ہیں: عائشہ، آمنہ، مریم، کلثوم، خدیجہ، جویریہ، اسماء، حمیرا، عاتکہ، میمونہ، اُمیمہ، اور مدیحہ وغیرہ۔
ففي مشکاة المصابیح: عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم» رواه أحمد وأبو داود اھ (ص:۴۰۸)۔
وفي سنن ٲبي داؤد: حدثنا أحمد بن حنبل، ومسدد، قالا: حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: غير اسم عاصية، وقال: «أنت جميلة» اھ (۲/۳۲۹)۔
وفي حاشية بن عابدین: التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عبادة ولا ذكره رسوله - صلى الله عليه وسلم - ولا يستعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا يفعل (ٳلی قوله)وکان رسول اللہ ۔ صلی اللہ علیه وسلم ۔ یغیر الاسم القبیح ٳلی الحسن، جاءہ رجل یسمی ٲصرم فسماہ زرعة اھ (۶/۴۱۷،۴۱۸) واللہ أعلم!