کیا فرماتے مفتیانِ کرام درجہ ذیل ناموں کے بارے میں کہ:
۱۔ ان کو نام کے طور پر رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر رکھنا جائزہے تو برائے مہربانی ان ناموں کے مطلب بیان کر دیں ، اور اگر رکھنا جائز نہیں تو اس کی وجہ بیان فرمائیں۔ ۱۔ اُمیمہ، ۲۔ عروبہ، ۳۔ اساورہ ۔۴۔ ماعز ۔ اَبْیَہہ
۲۔ کیا ناموں کی وجہ سے بندوں کے ذات پر کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ہے؟
۳۔ کیا صرف الفاظِ موضوع کو بطورِ نام رکھا جا سکتا ہے ؟ یا الفاظِ مہملہ بھی رکھے جا سکتے ہیں ؟ براہِ مہربانی ان سوالات کی ، قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
واضح ہو کہ لفظ ’’اَساوِرۃ‘‘ بمعنی "کنگن" اور لفظ’’ اِبْیَہ‘‘ بمعنی "دودھ کا تھن میں لوٹ آنا " اگر چہ معنی کے اعتبار سے درست ہیں اور ان کے ساتھ کسی بچہ کا نام بھی رکھا جا سکتا ہے ، مگر ’’اُمیمہ‘‘ لفظ امام کی تصغیر" آگے بڑھنے والی" کے معنی میں ہونے کی بناء پر ، پہلے دونوں ناموں سے بہتراور افضل ہے ، جبکہ ’’عَروبہ‘‘ بمعنی "شوہر کی نافرمان بیوی" کے آتے ہیں ، جو نام رکھنے کے اعتبار سے مناسب نہیں ، جبکہ ’’ ماعز‘‘ ایک صحابی کا نام ہے اور بلاشبہ رکھ سکتے ہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ اچھے معنوں والے نام کے رکھنے کی، تو باقاعدہ احادیثِ مبارکہ میں بھی ترغیب دی گئی ہے ، اور بعض مواقع پر آپ علیہ السلام نے نامناسب معنی والے ناموں کو اچھے معنی والے نام کے ساتھ بدلا بھی ہے ، اس لیے شروع سے اچھے معانی والے ناموں کا انتخاب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ففی سنن أبى داود : قال حدثنى بشيربن ميمون عن عمه أسامة بن أخدرى أن رجلا يقال له أصرم كان فى النفر الذين أتوا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ’’مااسمك ‘‘. قال أنا أصرم. قال’’بل أنت زرعة‘‘ اھ (4 / 443)۔
و في صحيح ابن حبان : عن أبي الدرداء عن النبي - صلى الله عليه و سلم - قال: (إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم و أسماء آبائكم فحسنوا أسمائكم) اھ(13/ 135)۔