السلام علیکم!
مفتی صاحب میری خواہش تھی کہ اپنے بیٹوں کے نام میں آپﷺ کے نام پر رکھوں گا، اللہ پاک کا کرم ہوا پہلے بیٹے کا نام میں نے صرف ’’محمد‘‘ رکھا اب دوسرے بیٹے کی پیدائش پر میں نے ’’احمد‘‘ نام رکھا ہے ، اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ ناموں کے ساتھ مناسب نام جوڑ دیں، کیا مجھے ناموں کے ساتھ اور نام جوڑنے چاہیۓ ؟ یا میرے دونوں بیٹوں کے نام ’’محمد اور احمد‘‘ درست ہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
سائل کے لۓ اپنے بیٹوں کے نام صرف ”محمد“ اورصرف ”احمد“ رکھنا شرعاً درست ہے، ان مبارک اسماء کے ساتھ کسی اور نام کے جوڑنے کی ضرورت نہیں.
فی السنن الکبریٰ للبیہقی : عن أبى وهب الجشمى - رضى الله عنه - و كانت له صحبة قال قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم - : «سموا بأسماء الأنبياء و أحب الأسماء إلى الله عبد الله و عبد الرحمن و أصدقها حارث و همام و أقبحها حرب و مرة ». اھ(9/ 306)۔
و فی كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال : 45216- سموا باسمي و لا تكنوا بكنيتي. "طب - عن ابن عباس".
45217- سموا باسمي و لا تكنوا بكنيتي ، فإني إنما بعثت قاسما أقسم بينكم. "ق - عن جابر".
۴۵۲۱۸ – سموا بأسماء الأنبیاء و لا تسموا بأسماء الملائکة . ’’تخ عن عبد اللہ بن جراد‘‘. (۱۶/ ۴۲۱)