محترم مولانا صاحب!
اس مسئلہ نے مجھے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا ہوا ہے، میں ایک یونیورسٹی میں اسلامیات کی پروفیسر ہوں، میرے شوہر قرآن کریم کی تلاوت سے قطعی ناواقف ہیں، انہوں نے شادی سے پہلے کسی قاری صاحب سے قرآن کریم سیکھنا چاہا، مگر وہ محترم صرف اپنی فیس وصول کرتے رہے اور ساری تدریس کے دوران سوتے رہے اور یہ اُلٹا سیدھا پڑھتے رہے جس کی باعث ابتدا ہی سے غلطیاں زبان پر عام ہو گئیں، میں نے شادی کے بعد درست کروانا چاہا ،مگر کامیاب نہ ہو سکی، پھر میں نے ایک قاری صاحب کا انتظام کیا وہ بڑی مشکل سے پڑھنے پر راضی ہوئے، مگر شرط لگا دی کہ میں ہجے نہیں کروں گا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ قاری صاحب بھی اپنی وصولیابی کرتے رہے اور کچھ نہ سکھایا، اب صورتِ حال یہ ہے کہ وہ ایک آیت بھی درست نہیں پڑھ سکتے، جب پڑھتے ہیں تو اس کا مفہوم بالکل الٹ اور انتہائی غلط کہ میں خوف سے کانپ جاتی ہوں، پھر سمجھایا کہ بچوں کو جو قاری صاحب پڑھانے آتے ہیں ان سے دوبارہ پڑھ لیں،مگر منع کر دیا ، اب آپ مجھے یہ ارشاد فرمائیں کہ کیا ایسے شخص کے لۓ تلاوت کرنا جائز ہے کہ جو بالکل اُلٹ پڑھ رہا ہو؟ اس کی وجہ سے کیا ان کی نماز بھی غلط ہو رہی ہے؟ کیا میرے لۓ جائز ہے کہ میں ان کو تلاوت سے منع کروں؟ ایک آیت میں بے شمار غلطیاں ہوتی ہیں کہ جس کو کسی طرح بھی ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہے میرے لۓ، میں چونکہ مفہوم سمجھ رہی ہوتی ہوں، کیونکہ وہ بلند آواز سے پڑھتے ہیں تو کیا میں وہاں سے ہٹ جایا کروں؟ یہ روز کا مسئلہ ہے کیونکہ انہوں نے اپنے ایک دوست کے کہنے پر اب کچھ عرصے سے روزانہ تلاوت شروع کر دی، اور یہ وقت گزارنا میرے لۓ قیامت اور خوف و دہشت سے بڑھ کر ہوتا ہے۔
سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ قرآن کریم کو صحیح پڑھنا سیکھ لے اور اس سلسلہ میں کوشش جاری رکھے، تاکہ اس کی نماز، تلاوت درست ہوجائے، کیونکہ اگر وہ اس سلسلہ میں کوشش چھوڑ دیں گے اور لا پرواہی سے کام لیں گے اور اس طرح غلط پڑھیں گے جس سے الفاظ اور معانی تبدیل ہو جاتے ہوں تو اُن کی نماز بھی نہ ہوگی۔
فی الدر المختار: وحرر الحلبي وابن الشحنة أنه بعد بذل جهده دائما حتما كالأمي، (إلی قوله) وكذا من لا يقدر على التلفظ بحرف من الحروف اھ (1/ 582)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وكذا من لا يقدر على التلفظ بحرف من الحروف) عطفه على ما قبله بناء على أن اللثغ خاص بالسين والراء كما يعلم مما مر عن المغرب، وذلك كالرهمن الرهيم والشيتان الرجيم والآلمين وإياك نأبد وإياك نستئين السرات أنأمت، فكل ذلك حكمه ما مر من بذل الجهد دائما وإلا فلا تصح الصلاة به اھ (1/ 582)۔
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0