السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میں نے عمرہ کرنے جانا ہے اور صفا، مروہ کے درمیان پتھر لگا ہوا ہے، اور میرے پاؤں میں ٹیڑھا پن ہے، اور بند جوتا زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے پاؤں کی جلد بہت نرم ہے ، اب اگر میں ننگے پاؤں "سعی بین الصفا والمروہ " کرتا ہوں، تو پاؤں میں تکلیف ہوتی ہے ،اور پاؤں زخمی ہو جاتے ہیں، تو کیا دورانِ سعی جوتا یا موزہ وغیرہ پہننے کی اجازت ہے یا ننگے پاؤں سعی کرنا ضروری ہے؟
سائل کے لیے سعی کے دوران ہوائی چپل ( جس کا استعمال حالتِ احرام میں کیا جاتا ہے) کے استعمال کی شرعاً اجازت ہے۔
کما فی الرد تحت : (قوله أسفل من الكعبين) الذي فی الحديث وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبين، وهو أفصح مما هنا ابن كمال والمراد قطعهما بحيث يصير الكعبان وما فوقهما من الساق مكشوفا لا قطع موضع الكعبين فقط كما لا يخفى اھ (2/ 490)۔
وفی الہندیة : إلا أن يقطع الخف أسفل من الكعبين، كذا فی فتاوى قاضي خان والكعب هنا المفصل الذي فی وسط القدم عند معقد الشراك كذا فی التبيين اھ (1/ 224)