"کیوریٹو ہومیو پیتھک کمپنی "ہے، قادیانیوں کی ہے، اس کے ہومیوپیتھک ادویات بہت ہی موثر ہے، میرے پاس ایک مریض آیا تھا، اس کو اسی کمپنی کے فسچولا کیپسول چاہیئے تھے، (فسچولا، مقعد کے ناسور کو کہتے تھے) ، اسی بندے کو یہ دوائی پشاور کے مولانا محمد آیاز صاحب نے دی تھی ، یہ مولانا صاحب دم بھی کرتے ہیں، اور ساتھ ساتھ دوائی بھی دیتے ہیں، اس مریض کو اس دوائی سے کافی افاقہ ہوا ہے، جب میں نے قادیانی کی بات اس سے کی کہ یہ کمپنی قادیانیوں کی ہے، تو اس دوست نے کہا کہ ہم یہود، نصٰری، اور چین کے ادویات استعمال کرتے ہیں، تو کیا ہوا کہ یہ قادیانی کی دوائی استعمال کرتے ہیں، انسانیت اور انسانوں کو فائدہ تو مل رہا ہے ، اور مولانا محمد آیاز صاحب پشاور والے کو بھی اس قادیانی کمپنی کا علم ہوگا ضرور،اب یہ معلومات کرنی تھیں کہ اس قادیانی کمپنی کی ادویات مریضوں کے فلاح اور علاج کے لئے استعمال کرنا اور کروانا چاہیئے یا نہیں ؟۔برائے مہربانی رہنمائی فرما دیجئے گا۔ الحمد للہ میں ایک سنی، دیوبندی مسلمان ہوں اور ختم نبوت پر میرا ایمان ہے، حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں اور یہ کہ قیامت تک دوسرا کوئی نبی نہیں آئے گا۔
اگر چہ غیر مسلم لوگوں کے ساتھ شریعت میں لین دین اور ان سے خریداری کی اجازت ہے، بشر طیکہ اس میں شرعی اصولوں کا لحاظ رکھا جائے، لیکن قادیانی چونکہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، اور ان کے ساتھ لین دین رکھنے میں ان کے کفر اور ارتداد میں عام مسلمانوں کو شبہ ہو سکتا ہے ، اس لئے عام حالات میں ان کے ساتھ لین دین کرنے سے اجتناب کرنا چاہئیے ، تاہم اگر بامرِ مجبوری ان کے ساتھ لین دین کرنا پڑ جائے، تو ضرورت کی حد تک ان سے خریداری کی اجازت ہے ، تاہم اس لین دین کے نتیجے میں ان کے کفر اور ارتداد سے متعلق رویّہ میں کوئی نرمی اور کمزوری نہیں آنی چاہیئے۔ لہذا سوال میں مذکور بیماری کے علاج کیلئے اگر کوئی اور مؤثر دوا موجود نہ ہو اور قادیانیوں کی اس کمپنی کی دوا سے واقعۃً افاقہ ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں بغرضِ علاج یہ دوا تجویز کرنے یا مریض کو دینے کی گنجائش ہے۔
كما في القرآن الكريم: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ } [الممتحنة: 1] ۔
وفي الدر المختار: (ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي اھ (4/ 268)۔
وفي خلاصة الفتاوى: المسلم اذا أجر نفسه من مجوسى ليخدمه جاز ويكره قال الفضليؒ لا يجوز في الخدمة وما فيه اضلال بخلاف الزراعة والسقى اھ (۳/149)۔
و في مرقاة المفاتيح: عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التائب من الذنب كمن لا ذنب له» . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان (4/ 1636)-
پینٹ فولڈ کرکے نماز پڑھنے کا حکم -خاندانی منصوبہ بندی کے جائز و ناجائز طریقے
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0شادی سے قبل اپنی مرادنگی چیک کرنے کے لئے کسی غیر عورت سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0ہو میو پیتھک کی ادویات میں الکحل شامل ہوتا ہے تو ان کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہے؟
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0مردوں اور عورتوں کے لیے خضاب، اور الکحل والی پرفیوم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0