میرا سوال یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں کے لیے خضاب استعمال کرنا حنفی مسلک میں کیسا ہے؟ سر اور داڑھی وغیرہ کے بالوں میں ؟
(2) دوسرا سوال یہ ہے کہ الکحل والی پر فیوم استعمال کرناچاروں مسالک میں کیسا ہے؟
عام حالات میں بڑھاپے کو پہنچنے کے بعد عورتوں اور مردوں کے لیے خالص سیاہ رنگ کا استعمال مکروہ ہے، جبکہ اس کے علاوہ دیگر رنگوں کے خضاب استعمال کرنا جائز بلکہ مستحسن اور علامت المسلمین میں سے ہے۔
آج کل خوشبویات میں عموماً شہد، پیٹرول، گندھک سے تیار شدہ الکحل ڈالا جاتا ہے، جس کا استعمال چونکہ اختلافی ہے، اس لیے اس کے استعمال کی اگر چہ گنجائش ہے، مگر اس سے احتراز بہتر ہے، البتہ اگر تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ کسی خوشبو میں کھجور یا انگور کا الکحل شامل کیا گیا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوجائے، کہ کسی کیمیائی طریقے سے تبدیل ماہیت نہیں ہوئی، تو ایسی الکحل والی خوشبو کے ناپاک ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی تکملة فتح الملھم: وبھذا تبین حخم الکحول المسکرۃ التی عمت بھا البلوی الیوم فانھا تستعمل فی کثیر من الادویة والعطور المرکبات الاخریٰ ، فانھا ان اتخذت من العنب أو التمر فلاسبیل الی حلتھا وطھارتھا وان اتخذت من غیرھا فالامر فیھا سھل علی مذھب ابی حنیفة ولایحرم استعمالھا للتداوی، والاغراض المباحة اخری مالم تبلغ حدالاسکار (الی قولہ) والظاہر ان معظم الکحول لاتصنع من عنب وتمر فینبغی ان یجوز بیعھا لاغراض مشروعة فی قول علماء الحنفیة الخ (1/551)۔