آج کل دنیا میں بننے والی تقریباً تمام ویکسینز میں سور یا گائے سے حاصل کردہ جیلیٹن استعمال کیا جاتا ہے ، مزید یہ کہ انسان یا جانوروں کے سیلز بھی ان ویکسین کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کیا ان میں کسی چیز کا اور ان ویکسینز کا استعمال جائز ہے ؟ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل لنک میں ان کی تیاری سے متعلق تفصیلات ہیں۔https://vk.org.ox.ac.uk/vk/vaccine-ingredients
دو سرا سوال یہ ہے کہ اگر کمپنی دعوی کرتی ہو کہ ہم اس جلیٹن
کو کیمیکل / تیزاب سے صاف کر کے اور تیز درجہ حرارت پر پکا کر استعمال کرتے ہیں، کیا تب بھی یہ پاک نہیں ہوتا؟
ویکسین میں استعمال ہونے والی جیلیٹین یا سیلز وغیرہ اگر خنزیر یا انسان سے حاصل کیے گئے ہوں، تو ایسی ویکسین کا استعمال شرعاً جائز نہیں، اور اگر ان دو کے علاوہ کسی اور ذریعے مثلاً حلال جانور وغیرہ سے حاصل کیے گئے ہوں، تو ایسی ویکسین کے استعمال کی شرعاً گنجائش ہے، اور جہاں تک ان اشیاء کو کیمیکل سے صاف کرنے اور تیز درجہ حرارت پر پکا کر پاکی کے حصول کا تعلق ہے، تو اس حوالہ سے ضابطہ یہ ہے کہ اگر پکانے کے اس عمل کے ذریعہ کسی حرام یا نا پاک چیز کی ماہیت بالکلیہ تبدیل ہو جاتی ہو، اور وہ چیز اپنے نام اور بنیادی خواص کو چھوڑ کر دوسری صورت اختیار کر لیتی ہو، تو ایسی صورت میں تو اس کی حلت اور پاکی کا قول کیا جا سکتا ہے ، ورنہ نہیں۔
كما في التنزيل العزيز {وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا } [الإسراء: 70]۔
وقال اللہ تعالیٰ ايضاً {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [المائدة: 3]۔
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ولو أصابت النجاسة الأرض فجفت وذهب أثرها تجوز الصلاة عليها عندنا، وعند زفر لا تجوز، وبه أخذ الشافعي، ولو تيمم بهذا التراب لا يجوز في ظاهر الرواية، وقد ذكرنا الفرق فيما تقدم. (ولنا) طريقان: أحدهما - أن الأرض لم تطهر حقيقة لكن زال معظم النجاسة عنها، وبقي شيء قليل فيجعل عفوا للضرورة، فعلى هذا إذا أصابها الماء تعود نجسة لما بينا.
والثاني - أن الأرض طهرت حقيقة؛ لأن من طبع الأرض أنها تحيل الأشياء، وتغيرها إلى طبعها، فصارت ترابا بمرور الزمان، ولم يبق نجس أصلا، فعلى هذا إن أصابها لا تعود نجسة، وقيل: إن الطريق الأول لأبي يوسف، والثاني لمحمد، بناء على أن النجاسة إذا تغيرت بمضي الزمان وتبدلت أوصافها، تصير شيئا آخر عند محمد، فيكون طاهرا، وعند أبي يوسف لا يصير شيئا آخر فيكون نجسا، وعلى هذا الأصل مسائل بينهما. (منها) : الكلب إذا وقع في الملاحة، والجمد، والعذرة إذا أحرقت بالنار وصارت رمادا، وطين البالوعة إذا جف وذهب أثره والنجاسة إذا دفنت في الأرض وذهب أثرها بمرور الزمان وجه قول أبي يوسف أن أجزاء النجاسة قائمة، فلا تثبت الطهارة مع بقاء العين النجسة، والقياس في الخمر إذا تخلل أن لا يطهر، لكن عرفناه نصا بخلاف القياس، بخلاف جلد الميتة فإن عين الجلد طاهرة، وإنما النجس ما عليه من الرطوبات، وأنها تزول بالدباغ وجه قول محمد أن النجاسة لما استحالت، وتبدلت أوصافها ومعانيها خرجت عن كونها نجاسة؛ لأنها اسم لذات موصوفة، فتنعدم بانعدام الوصف، وصارت كالخمر إذا تخللت. (1/ 85)۔
پینٹ فولڈ کرکے نماز پڑھنے کا حکم -خاندانی منصوبہ بندی کے جائز و ناجائز طریقے
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0