۱۔اُلٹے کپڑے پہن کر نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور نماز پڑھتے وقت کچھ لوگ اپنی پینٹ کے پائنچے فولڈ کر لیتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح نماز نہیں ہوتی۔
۲۔ خاندانی منصوبہ بندی میں کون کون سے طریقے جائز ہیں؟ کیا chala رکھوانا جائز ہے؟
قمیص اور شلوار وغیرہ الٹی طرف سے پہن کر نماز پڑھنا اگرچہ جائز ہے، مگر اس طرح کرنا مکروہ ہے ،اس سے احتراز چاہیۓ، جبکہ شلوار وغیرہ اگر ٹخنوں سے نیچے ہو ، تو نماز سے قبل اسے اوپر کر لینا بلاشبہ جائز اور درست ہے، اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس طرح نماز نہیں ہوتی ، تحقیق کی رو سے شرعاً درست نہیں، اور اس کو الٹا کپڑا پہننا بھی نہیں کہا جاتا ، اس لۓ بلاوجہ شکوک و شبہات میں پڑنے سے احتراز چاہیۓ۔
جبکہ خاندانی منصوبہ بندی کا ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے اولاد پیدا ہونے کی صلاحیت ہی ختم ہو جائے خواہ وہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے، کسی دواء یا انجکشن یا آپریشن اور امرِ خارجی تدابیر سے ہو ،شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس سے احتراز لازم ہے ، تاہم کوئی ایسی صورت اختیار کرنا کہ قوتِ تولید باقی رہتے ہوئے حمل قرار نہ پائے ، چاہے دواء یا انجکشن کی صورت ہو یا عزل اور چھلا وغیرہ رکھنے کی ، تو یہ صورت بامرِ مجبوری بعض حالات میں جائز ہے۔
ففی مصنف عبد الرزاق: عن طاوس قال: سمعت ابن عباس يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أمرت أن أسجد على سبعة أعظم، ولا أكف شعرا، ولا ثوبا» اھ (2/ 180)
وفی البحر الرائق: تحت (قوله وکف ثوبه)ويدخل أيضا في كف الثوب تشمير كميه كما في فتح القدير وظاهره الإطلاق وفي الخلاصة ومنية المصلي قيد الكراهة بأن يكون رافعا كميه إلى المرفقين وظاهره أنه لا يكره إذا كان يرفعهما إلى ما دونهما والظاهر الإطلاق لصدق كف الثوب على الكل اھ (۲/۲۶)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وصلاته في ثياب بذلة) (إلی قوله) وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر والظاهر أن الكراهة تنزيهية. اهـ. (1/ 641)
ففی اعلاء السنن: قلت: فبالنظر إلی فساد الزمان یجوز للمرأة سند فم رحمها او تعاطبها ما یقطع الحبل من أصله ولکن هذا مما یعرف ، ولا یعرف فإن العامة لا یراعون الحدود لایقفون عندها، والفقیه من عرف حال زمانه، وقد نشأت فی الاور باجماعة من النساء تسعی فی تقلیل النسل وقطعها وتعلم اخواتها انواعاً من الحیل لقطع الحبل (إلی قوله) ولو تمت حیلة هٰؤلاء الخبیثات لأفضت إلی قطع النسل وفساد العالم، وقد حث النبیﷺ علی تعاطی اسباب الولد فقال: تناکحوا تناسلو تکثیروا (إلی قوله) فلا یفتی بجواز العزل ونحوه إلا أن یکون الحاجة ظاهرة اھ (۱۷/۴۰۹)
وفی حاشية ابن عابدين: أخذ في النهر من هذا ومما قدمه الشارح عن الخانية والكمال أنه يجوز لها سد فم رحمها كما تفعله النساء اھ (3/ 176) واللہ أعلم بالصواب!
پینٹ فولڈ کرکے نماز پڑھنے کا حکم -خاندانی منصوبہ بندی کے جائز و ناجائز طریقے
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0شادی سے قبل اپنی مرادنگی چیک کرنے کے لئے کسی غیر عورت سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0ہو میو پیتھک کی ادویات میں الکحل شامل ہوتا ہے تو ان کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہے؟
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0مردوں اور عورتوں کے لیے خضاب، اور الکحل والی پرفیوم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0