حرام طریقہ علاج و ادویات

جوڑوں کے درد کے لئے سانپ کی چربی سے دوا تیار کرنا -اور اس کو لگا کر نماز پڑھنے کاحکم

فتوی نمبر :
85196
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / حلال و حرام / حرام طریقہ علاج و ادویات

جوڑوں کے درد کے لئے سانپ کی چربی سے دوا تیار کرنا -اور اس کو لگا کر نماز پڑھنے کاحکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سانپ کی چربی اور اس کے زہر سے تیار کر دہ دوائی پاک ہے یا نا پاک اور اسے لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
اس دوائی کو بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ سانپ کو مار کر دو سے تین ماہ تک اسے بوتل میں ڈال کر دھوپ میں رکھ دیا جاتا ہے ، اور جب اس سے چربی اور زہر الگ ہو جاتی ہے ،تو اس کی دوائی بنا کر اسے جوڑوں کے دردو غیرہ کے لئے خارجی استعمال میں لایا جاتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سانپ کی چربی نجس ہے ، اور اس سے مذکور طریقہ پر جو دوا تیار کی جاتی ہے ،اس سے ماہیت تبدیل بھی نہیں ہوتی ہے ، چنانچہ اس سے بنی ہوئی دوا بھی نجس ہے ، لہذا بوقتِ ضرورت اگر جسم پر لگائی جائے ،تو اس دوا کا بیرونی استعمال اگر چہ جائز ہو مگر نماز سے قبل اسے صاف کر کے دھونا لازم ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): والحاصل أنه إن اختلطا ترجح الغليظة مطلقا وإلا فإن تساويا أو زادت الغليظة فكذلك وإلا ترجح الخفيفة، فاغتنم هذا التحرير. (قوله: ثم متى أطلقوا النجاسة إلخ) أي: كإطلاقهم النجاسة في الأسآر النجسة و في جلد الحية وإن كانت مذبوحة؛ لأن جلدها لا يحتمل الدباغة. اهـ. بحر. (قوله: فظاهره التغليظ) هو لصاحب البحر حيث قال: والظاهر أنها مغلظة وأنها المرادة عند إطلاقهم اھ (1/ 321)۔
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: ومنها ما في الفتاوى الظهيرية جلد الحية نجس، وإن كانت مذبوحة؛ لأن جلدها لا يحتمل الدباغة بخلاف قميصها فإنه طاهر اھ (1/ 243)۔
و في البناية شرح الهداية: جلد الحية لأن في شرح الطحاوي قال: جلد الحية نجس لا يحتمل الدباغ، ويمنع جواز الصلاة أكثر من قدر الدرهم، وكذلك كان ينبغي أن يستثنى جلد الفيل عند محمد - رَحِمَهُ اللَّهُ - لأنه كالخنزير عنده. (1/ 409)۔
و في الفتاوى الهندية: ولو كان المنتضح مثل رأس المسلة منع كذا في البحر الرائق ومما يتصل بذلك مسائل جلد الحية نجس وإن كانت مذبوحة لأنه لا يحتمل الدباغة هكذا في الظهيرية اھ (1/ 46)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: الدباغ للجلود النجسة أو الميتة يطهرها كلها إلا جلد الإنسان والخنيزير، وما لا يحتمل الدبغ كجلد حية صغيرة وفأرة، لقول النبي صلّى الله عليه وسلم: «أيما إهاب دبغ فقد طهر» اھ (1/ 251)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): والحاصل أن ذكاة الحيوان مطهرة لجلده ولحمه إن كان الحيوان مأكولا، وإلا فإن كان نجس العين فلا تطهر شيئا منه، فإن كان جلده لا يحتمل الدباغة فكذلك؛ لأن جلده حينئذ يكون بمنزلة اللحم، وإلا فيطهر جلده فقط اھ (1/ 205)۔
و في الموسوعة الفقهية الكويتية: ثمّ قال الحنفيّة : كلّ إهاب دبغ وهو يحتمل الدّباغة طهر ، وما لا يحتملها لا يطهر اھ (16/ 256)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدآصف جمال عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85196کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • Centrum and Omega 3 - سینٹرم اور اومیگا کیپسول استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • مصنوعی بال لگوانے اور ان پر مسح کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 1
  • پینٹ فولڈ کرکے نماز پڑھنے کا حکم -خاندانی منصوبہ بندی کے جائز و ناجائز طریقے

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • اولاد ہونے کیلئے علاج کروانے کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • موجودہ دور میں تیار ہونے والی ویکسین کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • قادیانی کمپنی کی دوائی استعمال کرنا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • گائے اور بھینس کے جیلاٹین سے بنے کیپسول کھانا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 1
  • حصولِ اولاد کے لئے "سروکیسی"کے طریقۂ کار کو اختیار کرنا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • کرونا ویکسین کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   انگلش   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • جوڑوں کے درد کے لئے سانپ کی چربی سے دوا تیار کرنا -اور اس کو لگا کر نماز پڑھنے کاحکم

    یونیکوڈ   انگلش   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
Related Topics متعلقه موضوعات