نیٹ ورک مارکیٹنگ

ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کا حکم

فتوی نمبر :
61613
| تاریخ :
جدید فقہی مسائل / ٹیکنالوجی / نیٹ ورک مارکیٹنگ

ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کا حکم

السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام Leadsark affiliate marketing کے بارے میں، جس کی بنیاد digital products پر ہے ، اسی کے اندر مختلف کورس کو مختلف پرائس پر پایا جاتا ہے ، وہاں سے کسی ایک کورس کو خریدنے کے بعد اس سے digital marketing کو سیکھا جاتا ہے ، اور بعد میں ان کو آپ بھی sale کر سکتے ہیں اور ہر sale سے آپ کو کچھ کمیشن مل جاتا ہے ۔ اور اس کے اندر کوئی multi level marketing system نہیں ہے، Leadsarkیہ ISO certified company ہے، اور ابھی تک اس کمپنی نے اپنا affiliators کو 25 کروڑسے زائد روپیہ دے چکا ہے ، زیادہ جانکاری حاصل کرنے کے لیے اس websiteسے جان لیجئے www-Leadsark.com ویزیٹ کر لیجئے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مذکور لیڈ سارک (leads ark) کی ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کورس کی ویڈیوز اگر غیر شرعی امور (خواتین کی تصاویر، میوزک و غیرہ) پر مشتمل نہ ہو تو ایسی صورت میں مذکور کورس کی ویڈیوز کے ذریعے کمائی کرنے کی گنجائش ہے۔
جبکہ ہماری معلومات کے مطابق " ایفیلئیٹ مارکیٹنگ (Affiliate Marketing) کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جتنی بھی ای کامرس ویب سائیٹس ہیں یہ اپنا ایک ایفیلئیٹ پروگرام متعارف کرواتی ہیں، اس پروگرام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس پروگرام کے ممبر بن کر ان کے پروڈکٹ کی تشہیر کریں، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ ممبر بن جاتے ہیں وہ ان ویب سائٹ پر موجود بیچی جانے والی اشیاء میں سے کسی چیز کا لنک تشکیل (Generate link) دیتے ہیں، اور یہ لنک اپنے متعلقین کو بزریعہ فیسبک یا واٹس ایپ بھیجتے ہیں، لہذا جو لوگ اس لنک کے ذریعے متعلقہ ویب سائٹ پر جاکر اس کا وزٹ کریں، تو اس لنک کے تشکیل دینے والے کو اس چیز کی قیمت کا ایک مخصوص فیصد بطور کمیشن ملتا ہے۔
مذکورہ بالا طریقہ شرعاً جائز ہے اور اس میں لنک تشکیل دینے والے کی حیثیت اجیر کی ہے، یعنی اس کا کام ویب سائٹ پر بیچی جانے والی اشیاء کا لنک تشکیل دیکر لوگوں کو اس چیز کی خریداری کی طرف راغب کرنا اور مخصوص ویب سائٹ تک لیکر جانا ہے، لہذا اس صورت میں لنک تشکیل دینے والے کو جو کمیشن ملے گا وہ اس کیلیے جائز ہو گا، البتہ ضروری ہے کہ جتنا کمیشن ملنا ہو وہ پہلے سے طے ہو اس میں کسی قسم کی جہالت نہ ہو، نیز یہ تشہیر حرام پروڈکٹ کی نہ ہو اور نہ ہی غیر شرعی امور پر مشتمل ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه اھ (6/ 63)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم غلام خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 61613کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • آن لائن اپلیکیشن

    یونیکوڈ   نیٹ ورک مارکیٹنگ 0
  • parpal نامی سافٹ میں شیئرنگ اور ارننگ کا حکم

    یونیکوڈ   نیٹ ورک مارکیٹنگ 0
  • نیٹ ورک مارکیٹنگ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   نیٹ ورک مارکیٹنگ 0
  • گولڈ مائن ا نٹرنیشنل کا حکم

    یونیکوڈ   نیٹ ورک مارکیٹنگ 0
  • فاریکس ٹریڈنگ کے کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   نیٹ ورک مارکیٹنگ 0
  • کسی کا ای میل ایڈریس حاصل کر کے اسےمارکیٹنگ کیلئے استعمال کرنا

    یونیکوڈ   نیٹ ورک مارکیٹنگ 1
  • پرپال کمپنی میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   نیٹ ورک مارکیٹنگ 0
  • "شوپو ایڈز " پر رجسٹرڈ ہو کر ایڈز دیکھ کر پیسے کمانے کا حکم

    یونیکوڈ   نیٹ ورک مارکیٹنگ 0
  • ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کا حکم

    یونیکوڈ   نیٹ ورک مارکیٹنگ 0
  • سوال میں مذکور گلوبل آن لائن مارکیٹنگ کمپنی کے کاروبار سے متعلق فتوی

    یونیکوڈ   نیٹ ورک مارکیٹنگ 1
Related Topics متعلقه موضوعات