السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب میرا سوال آن لائن کام سے متعلق ہے، ایک ویب سائٹ ہے شوپو ایڈز . جس پر رجسٹر ہونے کے بعد ایڈز خریدنے پڑتے ہیں، اور ان کو 30 سیکنڈ کے لئے اپنے موبائل یالیپ ٹاپ وغیرہ پر دیکھنا ہوتا ہے، اور شوپو ایڈ والے اس پر کچھ رقم ادا کرتے ہیں، یہ رقم آپ کی خریداری پر انحصار کرتی ہے، یعنی اگر آپ نے کم قیمت والا پیکچ خریدا ہے تو اس پر آپ کو کم پیسے ادا کرے گی اور اگر آپ نے زیادہ پیسے خرچ کر کے مہنگے والا پیکج خریدا ہے،توکمپنی آپ کو اس کام کے زیادہ پیسے ادا کرے گی، جبکہ آپ اگر آگے ریفر کرتے ہیں، تو کمپنی والے آپ کو اس کی کمیشن قیمت ادا کرتے ہیں، تفصیلات: اسلم نے اس ویب سائٹ پر ایک فارم پر کیا جس سے وہ رجسٹر ہوگیا، اور اپنی مرضی کا ایک پیکج خرید لیا، مثلاً 3000 کا پیکج. اب ہر روز تین ماہ کے لئے ویب والے اسے 50 ایڈز دیں گے دیکھنے کے لئے ، جس پر ہر ایڈز پر اسے 2 روپےملتے ہیں، اگر یہ کسی اور کو بھی اس کے متعلق بتاتا ہے اور وہ بھی کام شروع کرتا ہے تو کمپنی اصول کے مطابق اس کو اس کا بھی کچھ پرسیٹنیج ملے گا، جبکہ نئے کسٹمر کو پہلے جیسا ہی پیکچ ملے گا اور کوئی کمی نہیں کی جائیگی،اگر اسلم 48000 ہزار والا پیکج خریدتا ہے،تو اسے وہی کام کے لئے کمپنی 22 روپے ادا کرتی ہے، آپ سے سوال یہ ہے کہ آیا شریعت کی رو سے ایسا کام کرناجائز ہے؟ مزید تفصیلات آپ کو آپ کے سوالات پر ارسال کردی جائیں گی، براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
سوا ل میں درج تفصیل کے مطابق شوپو ایڈز ویب سائٹ کا اصل کاروبار جس کے لئے وہ لوگوں کو ممبر بننے کی دعوت دیتی ہے، ایڈز دیکھ کر کمائی کرنا ہے، جس میں شرعی اعتبار سے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔
(1)ایڈز دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جاسکے اور ایڈز دیکھنے والے کو اجرت کا مستحق قرار دیا جاسکے۔
(2)بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پر مشتمل ہوتے ہیں۔
(3)مصنوعی طریقہ سے ویوز کی تعداد بڑھا کر دکھا یا جاتا ہے، جو کہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے، لہذا خود اس ویب سائٹ (کمپنی) کا ممبر بننا اور کسی اور کو اس کا ممبر بننے کی دعوت دینا جائز نہں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازيةالخ (6/4)۔
وفی فقہ البیوع: ان کان البیع المنتج مشروطا بان یدخل المشتری فی شبکة التسویق، فھذا البیع فاسد لاشتراط ما لا یقتضیہ العقد الخ (2/182)۔