کیا یہ کمائی حلال ہے ؟ السلام علیکم !
۱: میں online CPA marketing میں کام کرتا ہوں ، جس طریقے کے مطابق جب آپ کی ویب سائیٹ پر کوئی user software download کرنے کے لیے آئے ،تو آپ اس کو بولتے ہیں کہ کہ اگر آپ یہ سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنا چاہتے ہیں تو اپنا email enter کریں، یا اپنے ایڈریس کا zip code enter کریں، اس کے بعد آپ کا سوفٹ ویر ڈاؤن لوڈ ہو گا، لیکن حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں، جب بھی user اپنا ای میل یا zip code انٹر کرتا ہے تو اس کو کوئی سوفٹ وئیر نہیں ملتا اور یہ پیغام سکرین پر شو ہوتا ہے کہ یہ سافٹ وئیر available نہیں ہے، میرا آپ سے سوال ہے کہ اس طریقے سے سے کمائی کرنا حلال ہے یا حرام ؟ اس user کا email address یا zip code دوسری کمپنیاں مارکیٹنگ میں استعمال کرتی ہیں۔ اس طریقے میں یوزر کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ یہ ویب سائٹ کس آدمی کی اور کون اس کو چلا رہا ہے۔
۲: میرے پاس اس وقت اس طریقے کے علاوہ کمائی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ،اور میں بے روزگار ہوں، تو کیا میں کچھ عرصہ یہ کام کر کے اتنی savings جمع کر سکتا ہوں کہ میں اس سے کوئی حلال کام شروع کر دوں ؟ کیا یہ جائز ہو گا ؟ جزاک اللہ خیر اً!
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور کام کے ذریعہ وہ کسی طرح کماتا ہے، تاہم مذکور طریقہ سے غلط بیانی اور دھوکہ سے کسی صارف کا ای میل ایڈریس حاصل کر کے اس ای میل کو مارکیٹنگ کیلئے استعمال کرنا بہر حال جائز نہیں ہے ، جس سے احتراز لازم ہے۔ لہذا سائل کو چاہیے کہ کوئی دوسری جائز اور حلال ملازمت تلاش کرے، اور جب تک مناسب ملازمت نہیں ملتی ،اس وقت تک بامر مجبوری اس ملازمت کو بر قرار رکھ سکتا ہے۔
ففي الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا ومنها أن لا يكون العمل المستأجر له فرضا ولا واجبا على الأجير قبل الإجارة فإن كان فرضا أو واجبا قبلها لم يصح ومنها أن تكون المنفعة مقصودة معتادا استيفاؤها بعقد الإجارة ولا يجري بها التعامل بين الناس فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها اھ (4/ 411)۔ والله أعلم بالصواب!