انٹرنیٹ کے ذریعے فاریکس ٹریڈنگ کاجو کاروبار کیا جاتا ہے، وہ جائز ہے یا نہیں؟ اس میں ایک کمپنی جس کا نام ۔۔۔ ہے، اس میں ایک اسلامک "امانہ" کے نام سے اکاؤنٹ کھولا جاتا ہے، اور وہ اکاؤنٹ ربا فری کے نام سے ہے اور اس میں ڈالر کی صورت میں رقم جمع کروائی جاتی ہے، اور پھر اس رقم کی مد سے سونا ، چاندی آئل اور مختلف کرنسیوں کو خریدا جاتا ہے، اس میں نفع ہوتا ہے، تو اسے بیچ دیا جاتا ہے، اس کام میں جو منافع ہوتا ہے، اس میں کمپنی بطور شراکت 7 فیصد کمیشن وصول کرتی ہے، کیا یہ کام جائز ہے؟
فاریکس ٹریڈنگ کے کاروبار میں عام طور پر خرید فروخت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس کاروبار میں قبضہ کیے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے، اور قبضہ کیے بغیر آگے بیچنا جائز نہیں، اس لیے عام حالات میں تو یہ کاروبار درست نہیں، لہذا عمومی طور پر ایسے کاروبار سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کسی شخص کا کوئی وکیل اس طرح کے کاروبار کرنے کے بعد باقاعدہ سامان پر قبضہ کرے اور پھر آگے بیچے تو بلاشبہ نفع بھی حلال ہو گا۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَا أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلاَّ مثلَه (2/863 رقم الحدیث 2846)۔
وفی الدر المختار: (لا) يصح اتفاقا (الی قولہ) (بيع منقول) قبل قبضه الخ (5/147)۔