میں ڈائریکٹ مارکیٹنگ کمپنی کے ساتھ کام کرتا ہوں، میں نے سنا ہے کہ لوگ اس کو حرام کہتے ہیں ،کیونکہ چیز کی جو قیمت ہوتی ہے وہ بڑھ جاتی ہے عام قیمت سے ،جیسا کہ ہمیں معلوم ہے، جب ہم کسی چیز کی مارکیٹنگ کرتے ہیں تو اس کی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے، مثلاً ایک ٹوتھ پیسٹ جس کی قیمت دس سے بارہ روپے ہوتی ہے ،مارکیٹنگ کے بعد پینتالیس روپے سے اوپر ہو جاتی ہے، البتہ ڈائریکٹ مارکیٹنگ کا نیا طریقہ کا ر ہے،جس میں ہم پیسے بچاتے ہیں ،اس طور پر کہ ہم انٹرنیٹ ٹی وی، ریڈیو وغیرہ کے ذریعے اشتہار نہیں کرتے، بلکہ یہی رقم مختلف ڈسٹری بیوٹر کو دی جاتی ہے، جو ان اشیاء کی تشہیر کرتے ہیں،اور وہ ایک چیز کی فروخت پر کمیشن لیتے ہیں ،ایسا نہیں ہوتا جیسا کہ آپ کو دوسرے دو بندوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے ،جیسا کہ GMI کی طرح ،البتہ دوسرے بندے پر آپ کو زیادہ ملتا ہے اور تیسرے پر اس سے زیادہ وغیرہ وغیرہ ۔
اگر اس طرح کی مارکیٹنگ کے ذریعہ متعلقہ چیز کی قیمت میں فرق پڑ کر زیادہ مہنگی نہ ہوتی ہو، اور ان ڈسٹری پیوٹروں کا کمیشن بھی معلوم و متعین ہو، اور وہ چیز عام مارکیٹ میں دستیاب اور عام مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہو تو اس طرح کی مارکیٹنگ میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔
كما في حاشية ابن عابدين: قال في التتارخانية: و في الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام اھ (6/ 63)۔
و في الدر المختار: وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. (6/ 5)۔
و في الدر المختار: (و) كره (بيع الحاضر للبادي) وهذا (في حالة قحط وعوز وإلا لا) لانعدام الضرر، قيل الحاضر المالك والبادي المشتري والأصح كما في المجتبى أنهما السمسار والبائع لموافقته آخر الحديث «دعوا الناس يرزق بعضهم بعضا» (5/ 102)۔
و في تکملة فتح الملھم: ثم بیع الحاضر للبادی علی تفسیر الجمھور: مکروه عندنا أیضا إذا لحق به الضرر لأھل البلد (إلی قوله) والعلة ما سیأتی فی حدیث جابر رضی اللہ عنہ: «دعوا الناس يرزق بعضهم بعضا» فاذا اتنفیٰ الضرر لم یبق فی هذا البیع محظور اھ (۱/ ۳۳۵)-