فوریکس بزنس جائز ہے یا نہیں ؟
مذکورہ کا روبار قمار کی ایک قسم ہے، جس میں عام طور پر خرید و فروخت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس میں قبضہ کے بغیر چیز آگے فروخت کر دی جاتی ہے، جو شرعاً جائز نہیں ہے، اس لئے عام حالات میں تو یہ کاروبار قطعاً درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کسی شخص کا کوئی وکیل اس طرح کے سامان پر قبضہ کرنے کے بعد پھر اسے آگے بیچے تو بلاشبہ جائز ہوگا اور اس کا نفع بھی حلال ہوگا، مگر عموما اس کاروبار میں ایسا ہوتا نہیں، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ۔
كما فى مشكاة المصابيح: وعن ابن عباس قال: أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم فهو الطعام أن يباع حتى يقبض. قال ابن عباس: ولا أحسب كل شيء إلا مثله اھ (2/ 863)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (كل شيء إلا مثله) أي مثل الطعام في أنه لا يجوز للمشتري أن يبيعه حتى يقبضه اھ (5/ 1931)
وفى الفتاوى الهندية: ومنها القبض في بيع المشترى المنقول اھ (3/ 3)