کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک دوست نے کچھ رقم میرے پاس بطور امانت رکھوائی تھی،اور اس رقم کے بارے میں کسی کو دینے یا نہ دینے کے بارے میں کوئی صراحت نہیں کی تھی،اب تقریبا چار پانچ ماہ سے میرا وہ دوست لاپتہ ہے،زندہ یا مردہ ہونے کا کوئی پتہ نہیں،اب ان کی والدہ بیمار ہے،ان کی بیوی ،ایک بیٹی اور بھائی موجود ہے،والدکا انتقال ہوچکا ہے،اب میں یہ رقم کس کو ادا کروں،تاکہ میرے ذمہ کچھ نہ رہے،اور میں شرعا بری الذمہ ہوجاؤں۔اور اس بات کی بھی وضاحت کردیں کہ اگر یہ رقم دینے کے بعد میرا وہ دوست واپس آجائے تو کیا مذکور رقم کا مطالبہ کرسکتاہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل کے پاس بطور امانت رکھوائی ہوئی رقم کا اصل حکم تو یہ ہےکہ جب تک سائل کو اپنے لاپتہ دوست کے مرنے کایقین یا غالب گمان نہ ہوجائے تب تک سائل کیلئے مذکور رقم کی حفاظت کرنا لازم اور ضروری ہے،پھر اگر سائل کا دوست واپس آجائےتو اسے وہ رقم حوالہ کرنا یا اگر اس کی موت کا یقین اور غالب گمان ہوجائے تو وہ رقم اپنے دوست کے ورثاء کے حوالہ کرنا لازم اور ضروری ہوگا،تاہم اگر سائل کو امانت کی رقم کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو،جس کی وجہ سے وہ اپنا ذمہ فارغ کرنا چاہے،تو ایسی صورت میں اگر سائل باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں تحریری ثبوت کیساتھ اپنے دوست کے خاندان میں اس کے بھائی یا کسی اور معتمد اور امانت دار شخص کو وہ رقم حوالہ کردے تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے،تاہم جس شخص کو یہ رقم حوالہ کی جائے اس کیلئے مذکور کے لاپتہ شخص کے واپس آنے یا اس کے متعلق موت کا فیصلہ کیا جانے سے قبل وہ رقم خرچ کرنا درست نہ ہوگا،بلکہ اس کی حفاظت لازم اور ضروری ہوگی،البتہ اگر مذکور لاپتہ شخص کی بیوی ،بیٹی یا والدہ کے پاس کوئی مال یا ان کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو اور انہیں نان و نفقہ کی ضرورت ہو تو ایسی صورت میں بذریعہ عدالت مذکور رقم لاپتہ شخص کی بیوی ،بیٹی اور والدہ پر خرچ کی جاسکتی ہے۔
کما فی الدر:(وهي أمانة) هذا حكمها مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب واستحباب قبولهاالخ(5/664)-
وفی الشامیۃ تحت: (قوله يضمن المتأخر)(الی قولہ)وفي البزازية: والحاصل أن العبرة للعرف اهـ. غاب رب الوديعة، ولا يدري أهو حي أم ميت يمسكها حتى يعلم موته، ولا يتصدق بها بخلاف اللقطة، وإن أنفق عليها بلا أمر القاضي فهو متطوع، ويسأله القاضي البينة على كونها وديعة عنده، وعلى كون المالك غائبا فإن برهن، فلو مما يؤجر وينفق عليها من غلتها أمره به أو لا يأمره بالإنفاق يوما أو يومين أو ثلاثة رجاء أن يحضر المالك لا أكثر، بل يأمره بالبيع وإمساك الثمن، وإن أمره بالبيع ابتداء فلصاحبها الرجوع عليه به إذا حضر لكن في الدابة يرجع بقدر القيمة لا بالزيادة. وفي العبد بالزيادة على القيمة بالغة ما بلغت، ولو اجتمع من ألبانها شيء كثير، أو كانت أرضا فأثمرت وخاف فساده فباعه لأمر القاضي فلو في المصر أو في موضع يتوصل إلى القاضي قبل أن يفسد ذلك ضمن، تتارخانية من العاشر في المتفرقات.
وفی الھندیۃ: : غاب المودع ولا يدري حياته ولا مماته يحفظها أبدا حتى يعلم بموته وورثته، كذا في الوجيز للكردري.ولا يتصدق بها بخلاف اللقطة، كذا في الفتاوى العتابية.(4/454)-
وفی الشامیۃ تحت: (قوله: وكان غالبا محيطا) (الی قولہ)( وفي جواهر الفتاوى :وإذا دفع الوديعة لآخر لعذر، فلم يسترد عقب زواله، فهلكت عند الثاني لا يضمن؛ لأن المودع يضمن بالدفع، ولما لم يضمن به للعذر لا يضمن بالترك يدل عليه لو سلمها إلى عياله، وتركها عندهم لا يضمن للإذن، وكذا الدفع هنا مأذون فيه اهـ ملخصا (5/665)-
وفی الدرالمختار: (كما لو أودعت) المرأة (كتابا فيه إقرار منها للزوج بمال أو بقبض مهرها منه) فله منعه منها لئلا يذهب حق الزوج خانية.(ایضا)-
و فیہ: هدد المودع أو الوصي على دفع بعض المال إن خاف تلف نفسه أو عضوه فدفع لم يضمن، وإن خاف الحبس أو القيد ضمن، وإن خشي أخذ ماله كله فهو عذر كما لو كان الجابر هو الآخذ بنفسه فلا ضمان عمادية. خيف على الوديعة الفساد رفع الأمر للحاكم ليبيعه ولو لم يرفع حتى فسد فلا ضمان، ولو أنفق عليها بلا أمر قاض فهو متبرع.(5675)- واللہ اعلم بالصواب
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0