کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علماء کے ہاں اس مسئلہ میں اختلاف چل رہا ہے کہ قبر کی گہرائی کتنی ہونی چاہیے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دس(۱۰) فٹ ہونی چاہیے اور بعض کہتے ہیں کہ اتنی گہری ہونی چاہیے جس میں اُترنا مشکل ہو اور بعض کہتے ہیں کہ آدمی کے نصف قد کے برابر ،ان میں سے کس کاقول درست ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر ہماری پریشانی کو دور کریں۔
اس کی گہرائی کی کم ازکم مقدار نصف قد کے برابر ہے اور اگر اس سے کچھ زیادہ ہو جائے تو اس میں بھی کچھ حرج نہیں، مگر بلاوجہ دس فٹ یا اس سے بھی زائد کھو دنے سے احتراز چاہیے۔
ففی الدر المختار: (و حفر قبره) في غير دار (مقدار نصف قامة) فإن زاد فحسن (و يلحد ولا يشق) إلا في أرض رخوة۔(۲/ ۲۳۳،۲۳۴)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله مقدار نصف قامة إلخ) أو إلى حد الصدر، و إن زاد إلى مقدار قامة فهو أحسن كما في الذخيرة، فعلم أن الأدنى نصف القامة و الاعلى القامة، و ما بينهما شرح المنية، و هذا حد العمق، و المقصود منه المبالغة في منع الرائحة و نبش السباع. و في القهستاني: و طوله على قدر طول الميت، و عرضه على قدر نصف طوله(2/ 234)۔