کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ:
(۱) اگر کوئی آدمی فوت ہوجائے تو اُس کی بیوی کے ساتھ بھانجا نکاح کرسکتا ہے یا نہیں ؟ یعنی ماموں کے فوت ہوجانے کے بعد بھانجا ممانی سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟ مہربانی فرماکر کسی صحیح حدیث کی رو سے حوالہ دے کر مشکور فرمائیں۔
(۲) ایک شخص جنسی خواہشات کا زیادہ عادی ہے ، بیوی کے بغیر کچھ دن صبر نہیں کرسکتا ، اگر ایسا کرتا ہے یعنی اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو گھر سے باہر کسی نہ کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے (زنا یا خلافِ شرع عمل) کا مرتکب ہوتا ہے ، اور اس دوران اُس کی بیوی ایامِ حیض (ماہواری) میں مبتلا ہوتی ہے ، تو وہ شخص کسی بڑے گناہ سے بچنے کیلئے یا باہر بے عزت ہونے کے خطرہ سے ، وہ گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ اپنے عضوِ تناسل کو اُس کی ران یا پٹھے یا پیٹ کے کسی حصہ سے رگڑ (مسل) کر اپنا قطرہ نکالتا ہے یا پھر اپنی بیوی کیساتھ خلاف شرع (دوسرا اُلٹا راستہ) استعمال کرتا ہے ، تو آیا یہ اُس کیلئے جائز ہے یا نہیں؟ دونوں کا الگ الگ جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
(۱) بھانجا ، ممانی کا شرعاً محرم نہیں اور ماموں کے انتقال کے بعد ممانی کے ساتھ عقدِ نکاح کرنا بھی جائز اور درست ہے ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور نکاح کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
(۲) لواطت یعنی دبر کے راستہ سے شہوت پوری کرنے کا عمل اپنی بیوی سے بھی ناجائز اور حرام ہے ، شریعتِ مطہرہ نے اس سے سختی سے منع کیا ہے اور ایسے شخص کیلئے بڑی سخت وعیدیں بیان کی ہیں ، لہٰذا اس عمل سے ہر حال میں احتراز واجب ہے، البتہ شخصِ مذکور ایامِ حیض میں مذکورہ بالا دوسرے کسی طریقہ سے (سوائے ناف سے گھٹنے تک کے حصہ میں) اپنی شہوت پوری کرسکتا ہے۔
قال اﷲ تعالی بعد ذکر المحرمات :{وَ اُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآء ذٰلِکُمْ}۔ (الآیۃ)۔
(۲) فی الدر المختار : تحت (قوله ومباشرتها له) سبب تردده في المباشرة تردد البحر فيها ، حيث قال : و لم أر لهم حكم مباشرتها له. و لقائل أن يمنعه بأنه لما حرم تمكينها من استمتاعه بها حرم فعلها به بالأولى. و لقائل أن يجوزه بأن حرمته عليه لكونها حائضا ، و هو مفقود في حقه فحل لها الاستمتاع به و لأن غاية مسها لذكره أنه استمتاع بكفها و هو جائز قطعا. اهـ. و استظهر في النهر الثاني : لكن فيما إذا كانت مباشرتها له بما بين سرته و ركبته ، كما إذا وضعت(الی قولہ)و هو تحقيق وجيه ؛ لأنه يجوز له أن يلمس بجميع بدنه حتى بذكره جميع بدنها إلا ما تحت الإزار فكذا هي ، لها أن تلمس بجميع بدنها إلا ما تحت الإزار جميع بدنه حتى ذكره ،الخ(شامی: ج۱، ص۲۹۲، ۲۹۳)۔
فی الدر المختار : (أو) بوطء (دبر) و قالا : إن فعل في الأجانب حد. و إن في عبده أو أمته أو زوجته فلا حد إجماعا بل يعزر. الخ (ج۴، ص۲۷)۔
بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام
یونیکوڈ جنسی مسائل 0