کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ:
ایک کمپنی والے سال یا چھ ماہ میں ایک بکرا یا دنبہ ذبح کرتے ہیں اور گوشت کو بطور نیتِ ثواب ملازمین میں تقسیم کرتے ہیں، جن میں مسلم اور غیرمسلم دونوں ہوتے ہیں ، دریافت طلب امور یہ ہیں:
۱۔آیا اس طرح ثواب کی نیت سے بکرا ذبح کرکے ملازمین میں گوشت تقسم کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟
۲۔اور اس گوشت کا کچھ حصہ غیرمسلم ملازمین کو دینا صحیح ہے یا نہیں ؟
جی ہاں! جو جانور محض حصولِ ثواب یا کاروبار میں برکت کی غرض سے ذبح کیا جائے ، بلاشبہ اس پر ثواب بھی ہے اور اس میں سے غیرمسلم ملازم کو بھی دے سکتے ہیں ۔
فی الفقه الاسلامی و ادلته : من أطعم جائعا اطعمه اللہ من ثمار الجنة ، و من سقی مؤمنا علی ظمأ ، سقاہ اللہ عز و جل یوم القیامة من الرحیق المختوم ،و من کسا مؤمنا عاریاً ، کساہ اللہ من خضر الجنة اھ(2/215)۔
و فیه ایضاً : و تحل الصدقة ایضا علی فاسق ، و کافر من یھودی او نصرانی او مجوسی ، ذمی او حربی اھ(2/920)۔
و فی الشامية : (قوله : لكن جزم الزيلعي بجواز التطوع له) أي للمستأمن كما تفيده عبارة النهر؛ ثم إن هذا لم أره في الزيلعي و كذا قال أبو السعود و غيره مع أنه مخالف لدعوى الاتفاق ، لكن رأيت في المحيط من كتاب الكسب : ذكر محمد في السير الكبير : لا بأس للمسلم أن يعطي كافرا حربيا أو ذميا ، و أن يقبل الهدية منه ، لما روي «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - بعث خمسمائة دينار إلى مكة حين قحطوا و أمر بدفعها إلى أبي سفيان بن حرب و صفوان بن أمية ليفرقا على فقراء أهل مكة» و لأن صلة الرحم محمودة في كل دين و الإهداء إلى الغير من مكارم الأخلاق اھ(2/ 352)۔