کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جس کی ۶۴ دن کی نمازیں مرضِ موت میں قضاء ہوئیں ، جن کا مجموعہ کل ۳۸۴ نمازیں بنتی ہیں بمع نمازِ وتر ۔
۱۔ اس شخص کی ان قضاء نمازوں کے کفارے میں وتر داخل ہے یا نہیں؟
۲۔ اور ان نمازوں کا کفارہ کتنا ادا کرنا ہوگا ؟ تصریح فرمائیں۔
۳۔ اور آیا یہ کفارہ سید فقیر مریض جو میت کا قریبی رشتہ دار ہے اس کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟
۱۔ جی ہاں! فوت شدہ نمازوں کے فدیے میں وتر بھی داخل ہیں۔
۲۔ مرحوم نے اپنی فوت شدہ نمازوں کے فدیے کی اگر وصیت کی تھی تو مرحوم کے ورثاء پر لازم ہے کہ وہ ترکہ کی ایک تہائی کی حد تک نمازوں کے فدیے کی ادائیگی کریں اور فدیے کی مقدار صدقۂ فطر کی بقدر ہے یعنی پونے دو سیر گندم یا اس کی رائج الوقت قیمت، اس لحاظ سے ۶۴ دن کی نمازوں کا فدیہ ۶۷۲ سیر گندم یا اس کی قیمت بنتی ہے۔
۳۔ فدیے کے بھی مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ کے مصارف ہیں، لہٰذا کسی حقیقی سید کو فدیے کی رقم دینا درست نہیں۔
ففی الدر المختار: (ولو مات وعليه صلوات فائتة و أوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (2/ 72)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وكذا حكم الوتر) لأنه فرض عملي عنده (2/ 73)۔
وفی الدر المختار: (و) لا إلى (بني هاشم) (إلی قوله) (وجازت التطوعات من الصدقات) (2/ 351)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: وجازت التطوعات إلخ) قيد بها ليخرج بقية الواجبات كالنذر والعشر والكفارات اھ(2/ 351)۔