احساس پروگرام کے تحت حکومت کرونا کی وجہ سے حالت خراب ہونے پر ان غریبوں کے لیے 12000 روپے دے رہی ہے جو اس سے پہلے مزدوری کر رہے تھے لیکن لاک ڈاون کی وجہ سے ان کا کام بند ہو گیا ہے ، لیکن اگر ایسا شخص جو کہ غریب ہو لیکن کرونا کی وجہ سے لاک ڈاون ہونے پر ان کے کام پر کچھ اثر نہ پڑا ہو اور وہ بدستور اپنا کام جاری رکھا ہوا ہو تو اگر ایسا شخص حکومت سے یہ 12000 روپے وصول کرے تو اس شخص کے لئے ان پیسوں کا کیا حکم ہے ؟ کیا اس لاک ڈاون سے متاثر نہ ہونے والے غریب کے لئے یہ پیسے لینا حرام نہیں ہے ؟ وضاحت کے ساتھ جلد جواب دے کر مشکور فرمائے۔
مذکورہ فنڈ کی مکمل تفصیل تو ہمارے سامنے نہیں، تاہم جب یہ فنڈ غرباء کے لئے ہے تو غریب افراد کا اس سے نفع اٹھانا شرعاً جائز ہے ، البتہ اس فنڈ سے استفادہ کرنا اگر مخصوص شرائط کے حامل افراد کے ساتھ خاص ہو ، تو دیگر افراد کو اس سے فائدہ اٹھانے سے احتراز کرنا چاہئیے۔
كما في صحيح مسلم للنيسابوري: 7028 - حدثنا يحيى بن يحيى التميمى وأبو بكر بن أبى شيبة ومحمد بن العلاء الهمدانى - واللفظ ليحيى - قال يحيى أخبرنا وقال الآخران حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبى صالح عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن يسر على معسر يسر الله عليه فى الدنيا والآخرة ومن ستر مسلما ستره الله فى الدنيا والآخرة والله فى عون العبد ما كان العبد فى عون أخيه ومن سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له به طريقا إلى الجنة وما اجتمع قوم فى بيت من بيوت الله يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم إلا نزلت عليهم السكينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملائكة وذكرهم الله فيمن عنده ومن بطأ به عمله لم يسرع به نسبه ». (8/ 71)-