صدقہ

قبرستان کی عطیہ کیلئے شیعہ کو شامل کرنا

فتوی نمبر :
58304
| تاریخ :
2022-09-16
عبادات / زکوۃ و صدقات / صدقہ

قبرستان کی عطیہ کیلئے شیعہ کو شامل کرنا

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
کسی آبادی کے لوگ مل کر قبرستان بنانا چاہتے ہیں ،اور اس کے لیے زمین عطیہ کرنے میں شیعہ لوگ بھی شامل ہیں، تو کیا شیعوں سے قبرستان کے لیے زمین لینا جائزہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قبرستان کی زمین عطیہ کرنے میں اگر اہلِ علاقہ کے ساتھ اہلِ تشیع بھی حصہ لے رہے ہوں، اور ان کا مقصد بھی اجر وثواب حاصل کرنے کا ہو ،اور ان کے شامل ہونے میں کسی طرح کا کوئی مفسدہ بھی نہ ہو ، تو اہلِ تشیع کو اس کام میں شامل کرنے میں حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (وشرطه شرط سائر التبرعات) كحرية وتكليف (وأن يكون) قربة في ذاته معلوما (منجزا) لا معلقا إلا بكائن اھ (4/ 340)
وفی الفتاوى الهندية: (ومنها) أن يكون قربة في ذاته (إلی قوله) وإن قال: تفرق غلتها في جيرانه وله جيران مسلمون وجيران نصارى ويهود ومجوس وجعل آخره للفقراء فالوقف جائز وتفرق غلة الوقف في جيرانه المسلمين والنصارى وغيرهم وإن قال الذمي: تجعل غلتها في أكفان الموتى أو في حفر القبور فهو جائز وتصرف الغلة في أكفان موتاهم وحفر قبور فقرائهم كذا في المحيط اھ (2/ 353)
وفیها أیضاً: فقد روى محمد - رحمه الله تعالى - في السير الكبير أخبارا متعارضة في بعضها أن رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - قبل هدايا المشرك وفي بعضها أنه - صلى الله عليه وسلم - لم يقبل فلا بد من التوفيق واختلفت عبارة المشايخ رحمهم الله تعالى في وجه التوفيق فعبارة الفقيه أبي جعفر الهندواني أن ما روي أنه لم يقبلها محمول على أنه إنما لم يقبلها من شخص غلب على ظن رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - أنه وقع عند ذلك الشخص أن رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - إنما يقاتلهم طمعا في المال لا لإعلاء كلمة الله ولا يجوز قبول الهدية من مثل هذا الشخص في زماننا وما روي أنه قبلها محمول على أنه قبل من شخص غلب على ظن رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - أنه وقع عند ذلك الشخص أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إنما يقاتلهم لإعزاز الدين ولإعلاء كلمة الله العليا لا لطلب المال وقبول الهدية من مثل هذا الشخص اھ (5/ 347) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید حبیب عالمگیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 58304کی تصدیق کریں
0     880
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • صدقہ کی رقم بتاکر دینا لازم نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   صدقہ 0
  • خیرات اور صدقہ میں فرق - صدقہ کا گوشت خود بھی کھانا

    یونیکوڈ   صدقہ 3
  • مرض الموت کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ

    یونیکوڈ   صدقہ 1
  • صدقہ کرنا بہترہے یا سگے بھائی کی مدد کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   صدقہ 0
  • ثواب کی نیت سے مسلم اور غیرمسلم ملازمین میں گوشت تقسیم کرنا

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • قبرستان کی عطیہ کیلئے شیعہ کو شامل کرنا

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • سید کو نفل صدقہ دیناجائز ہے؟

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • کمائی میں سے دس فیصد صدقہ کرنے کی ایک صورت

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • نذر اور منت کی رقم مسجد میں دینا

    یونیکوڈ   صدقہ 3
  • رشتہ داروں کو صدقہ دینے کا ثواب

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • ماہانہ آمدن سے نکالی گئی صدقہ کی رقم کہاں خرچ کی جائے؟

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کاارادہ کرنا

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • احساس فنڈ سے فائدہ اٹھانا کن لوگوں کیلئے درست ہے؟

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • صدقہ کے طور پر مخصوص رقم رشتہ داروں کو تخفے میں دی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • وصول شدہ چندے کے نوٹ بعینہ جمع کرانے کا حکم

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • صدقات سے اپنے ضرورت مند رشتہ داروں کی مدد کرنا

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • روزانہ صدقہ جمع کرکے کسی دوسرے ملک بھیجنا

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • والدین کو صدقہ کی رقم دینے کا حکم

    یونیکوڈ   صدقہ 1
  • صدقہ کی رقم سے جنازہ گاہ تعمیر کرنا

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • صدقات کا صحیح اور افضل مصرف کیا ہے ؟

    یونیکوڈ   انگلش   صدقہ 0
  • صدقہ میں بکرا ذبح کرسکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   انگلش   صدقہ 0
  • صدقہ کیا ہوا گوشت بطور ہدیہ واپس آنے پر کھانے کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   صدقہ 0
  • مالک تک نہ پہنچنے کی وجہ سے اس کے پیسے صدقہ کرنا

    یونیکوڈ   صدقہ 0
  • کاروبار کے منافع میں صدقہ کئے ہوئے پیسوں کو مسجد میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   صدقہ 1
  • ایک مصرف کیلئے رکھے ہوئے صدقہ کے پیسے کسی اور مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   صدقہ 1
Related Topics متعلقه موضوعات