میری گھر والی نے دس ہزار روپے فلسطین کے لیے رکھیں تھے، ان پیسوں میں 5,000 روپے کے قرآن ہدیہ کیے، کچھ رقم کسی اور کو دیے، اب کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟ کیونکہ پیسے فلسطین کے نام پر رکھے تھے ۔
واضح ہو كہ اگر کسی معین افراد پر صدقہ كى نىت سے ركھى گئى رقم اگر خىر كے كسى اور مصرف مىں خرچ كردى جائے، تو شرعاً اس مىں كوئى مضائقہ نہىں، لہذا سائل كى بىوى نے جو دس ہزار روپے فلسطین کے لیے رکھے تھے، پھر بعد مىں دوسرے خىر كے كاموں مىں لگادئے، تو اسے صدقہ كا ثواب ملےگا، دوسرے كو دينے كى وجہ سے کوئی گناہ نہ ہوگا ۔
كما في الفتاوى الهندية: رجل قال: مالي صدقة على فقراء مكة إن فعلت كذا فحنث وتصدق على فقراء بلخ أو بلدة أخرى جاز ويخرج عن النذر اهـ (کتاب الأیمان، ج:2، ص:72، دارالفکر)
وفي رد المحتار: ذكر في وصايا شرح الوهبانية عن الخلاصة أوصى بأن يتصدق بثلث ماله في فقراء بلخ الأفضل أن يصرف إليهم وإن أعطى غيرهم جاز وهذا قول أبي يوسف وبه يفتى اهـ [كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة، فروع في مصرف الزكاة، ج:2 ص:355 ط: سعيد)]