کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیان ِعظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جزءِ آیت چھوڑنےسے نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ مثلاً امام صاحب نے الّذینَ یؤمِنونَ بالغیبِ پڑھا اور ویقیمونَ الصَّلَاۃ چھوڑ کر وَمما رَزَقناہم ینفقون پڑھا تو نماز کے بعد امام صاحب کا کچھ آدمیوں سے اختلاف ہوا ، براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کے وضاحت فرمائیں۔
مذکور جزء چھوڑنے سے نماز میں کسی قسم کا فساد نہیں آیا، بلکہ بلاشبہ نماز ادا ہو گئی ہے، لہٰذا باہم اختلاف وانتشار سے احتراز چاہیۓ۔
وفی الدر المختار: ومنها زلة القارئ (إلی قوله) أو نقص کلمة الخ (1/ 630)۔
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله أو نقص كلمة) كذا في بعض النسخ ولم يمثل له الشارح. قال في شرح المنية: وإن ترك كلمة - من آية - فإن لم تغير المعنى مثل - وجزاء سيئة - مثلها - بترك سيئة الثانية لا تفسد وإن غيرت، مثل - فما لهم يؤمنون - بترك لا، فإنه يفسد. عند العامة؛ وقيل لا والصحيح الأول اھ(1/ 632)۔
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0