السلام علیکم!
کچھ عرض ہے کہ میرا بھائی جس کا نام ساجد حسین ہے، ماشاءاللہ حافظ ہے اور 3 یا 4 سال سے ایک مدرسے میں نمازِ تراویح پڑھا رہا ہے۔ لیکن وہ باشرع نہیں ہے، یعنی ٹوپی بھی نہیں لگاتا اور داڑھی تو ہے جو کبھی کٹوائی نہیں ہے، لیکن وہ کمپیوٹر بھی استعمال کرتا ہے اور فلمیں وغیرہ بھی دیکھتا ہے۔ آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ اس کے پیچھے نمازِ تراویح یا فرض نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ اس کی عمر 19 سے 20 سال ہے۔
صورت مسئولہ میں مذکور اُمور کے ارتکاب کی وجہ سے شخص مذکور فاسق ہے اور ایسے شخص کو اپنے اختیار سے فرض یا تراویح کی نماز میں امام بنانا جائز نہیں۔ اسلیے شخص مذکور کو چاہئے کہ اپنے مذکور گناہوں پر بصدق دل تو بہ و استغفار کرے تاکہ اسکی اقتداء میں نماز بلا کراہت درست اداء ہو سکے۔
وفی الرد: "وأما الفاسق فقد عملوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه وبأن في تقديمه للأمامة تعظيمه وقد وجب عليهم إهانته شرعا ولا يخفى أنه كان أعلم من غيره لا تزول العلة ، فإنه لا يؤمن أن يصلى بهو بغير طهارة فهو كالمبتدع تكره إمامة بكل حال(ص 560، ج: 1)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0