کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی شخص اپنے دودھ پیتے بچے کا جھوٹا مثلاً پانی، دودھ وغیرہ پی سکتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح اس کا جھوٹا کھا سکتا ہے یا نہیں؟
بچے کا جھوٹا کھانا ، پینا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
فی الدر :(فسؤر آدمي مطلقا) ولو جنبا أو كافرا أو امرأة اھ(1/ 221)۔
وفی فتح القدیر: وسؤر آدمي وما یؤکل لحمه طاهر، لأن المختلط به اللعاب وقد تولد من لحم طاهر فیکون طاهراً ویدخل فی هذا الجواب الجنب والحائض والکافر اھ(۱/۹۴)۔