نجاسات اور پاکی

دودھ پیتے بچے کا جھوٹا استعمال کرنا

فتوی نمبر :
59412
| تاریخ :
2006-05-18
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

دودھ پیتے بچے کا جھوٹا استعمال کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی شخص اپنے دودھ پیتے بچے کا جھوٹا مثلاً پانی، دودھ وغیرہ پی سکتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح اس کا جھوٹا کھا سکتا ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بچے کا جھوٹا کھانا ، پینا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر :(فسؤر آدمي مطلقا) ولو جنبا أو كافرا أو امرأة اھ(1/ 221)۔
وفی فتح القدیر: وسؤر آدمي وما یؤکل لحمه طاهر، لأن المختلط به اللعاب وقد تولد من لحم طاهر فیکون طاهراً ویدخل فی هذا الجواب الجنب والحائض والکافر اھ(۱/۹۴)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59412کی تصدیق کریں
0     1046
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات