نجاسات اور پاکی

اگر کسی کو ناپاکی کا وہم ہو تو کیا کرے؟

فتوی نمبر :
5643
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

اگر کسی کو ناپاکی کا وہم ہو تو کیا کرے؟

جناب مجھے پاکی ناپاکی کا وہم ہوتا ہے اکثر کسی چیز کو ہاتھ لگاتا ہوں تو میں سوچتا ہوں کہ پاک ہوگا یا نہیں؟ اور جب لگتا ہے کہ یہ ناپاک ہوگا تو اپنے ہاتھوں کو دھوتا رہتا ہوں جب تک اطمینان نہ ہوجائے اور جب غسل کرتا ہون تو بھی یہی مسئلہ پیش آتا ہے اور پانی بہاتا رہتا ہوں اس کی وجہ سے میری اکثر نماز قضاء ہوجاتی ہے کافی پریشان ہوتا ہوں، مہربانی فرماکر کوئی وظیفہ تجویز فرمائیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اپنے اعضاء کو فقط تین مرتبہ دھونے پر اکتفا کرنا چاہئے اور مذکورہ وسوسے کی بیماری سے نجات کیلئے درجِ ذیل وظائف کی پابندی بھی بہت مفید رہے گی اس لئے اس کا اہتمام چاہئے وہ وظائف یہ ہیں:
(۱) ہر نماز کے بعد تین تین مرتبہ اوّل وآخر درود شریف کے درمیان اکیس مرتبہ (أعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ اٰمَنْتُ بِاللہِ وَرُسُلِہِ) پڑھا کریں۔
(۲) اٹھتے بیٹھتے بکثرت تیسرے کلہ کا ورد معمول بنالیں ورنہ دن رات میں کم از کم سات سو مرتبہ ضرور پڑھیں انشاء اللہ اس سے بھی یہ بیماری ختم ہوجائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

ویستعمل الماء إلی ان یقع غالب ظنہ انہ قد طھر ولا یقدر بالمرات إلا اذا کان موسوسا فیقدر بالثلث فی حقہ کذا فی الھدایة. (ج۱، ص۷۹)
فعلم بھذا ان المذھب اعتبار غلبة الظن وإنھا مقدرة بالثلاث لحصولھا بہ فی الغالب وقطعًا للوسوسة وانہ من اقامة السبب الظاھر مقام المسبب الذی فی الاطلاع علی حقیقتہ عسر کالسفر مقام المثقة. کذا فی الشامیة: ج۱، ص۳۳۱)
ولا یقدر بالعدد إلّا ان یکون موسوسا فیقدر فی حقہ بالثلاث کذا فی عالمگیریة. (ج۱، ص۴۹) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فخر الاسلام سلام عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 5643کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات