نجاسات اور پاکی

واش مشین میں ناپاک اور پاک کپڑوں کو ملاکر دھونے کا حکم

فتوی نمبر :
49031
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

واش مشین میں ناپاک اور پاک کپڑوں کو ملاکر دھونے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ! حضرت میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک جوائنٹ فیملی میں رہتا ہوں ، تقریباً فیملی ہے ، ایک گھر میں ، ہمارے یہاں ایک مسئلہ ہے کہ کپڑے سب ویسے ہی دھوتے ہیں یعنی کہ جاری پانی مثلاً نلکے کے نیچے نہیں بھگوتے تھے ، ویسے ہی واشنگ مشین میں گھما کر پھر کپڑے دھونے کے تھال میں پانی ڈال کر سارے کپڑوں کو ایک ہی پانی میں بھگوتے ہیں ، سوائے ان ناپاک کپڑوں کے ، مثلاً جن میں منی لگنے کا گمان ہو ، اس کو الگ سے دھوتے ہیں ، لیکن وہ بھی اسی ترتیب سے جیسے دوسرے کپڑے دھوتے ہیں اور مجھے گمان ہے کہ ان پہنے ہوئے کپڑوں میں بھی روز مرہ کے جو ہمارے گھر کی دوسری عورتیں مثلاً چچی وغیرہ کے بچے ہیں ، وہ بچوں کو ویسے ہی اٹھا لیتی ہے ، بھلے ہی اس نے پیشاب کیا ہو تو ان کپڑوں میں بھی لگ جاتا ہے ، لیکن وہ ان کپڑوں کو بھی دوسرے صحیح کپڑوں کے ساتھ دھوتی ہے ، تو مجھے یہ گمان ہے کہ میں تو ان کے پانی سے احتیاط کرتا ہوں ، لیکن وہ پانی میرے بھائی وغیرہ کے کپڑوں پر لگ جاتا ہوگا ، امی کے تو وہ ویسے ہی دھولتی ہے ، سارے کپڑوں کو تو اس میں ہمارے کپڑے پاک ہے یا نہیں؟یا صرف میرا گمان اور وہم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ میلے پاک کپڑے جن پر ناپاکی لگی ہوئی نہ ہو خواہ ایک ہی دفعہ مشین میں دھوئے جائیں تو وہ کپڑے پاک ہی رہیں گے ، تاہم اگر ناپاک کپڑے مشین میں ڈال دیے جائیں یا پاک اور ناپاک دونوں قسم کے کپڑے ایک ساتھ مشین میں دھوئے جائیں تو اس سے پاک کپڑے بھی ناپاک ہو جائیں گے، لہذا ان دونوں قسم کے کپڑوں کو مشین میں ہی یا مشین سے نکالنے کے بعد تین مرتبہ پاک پانی سے دھونا یا بہتے نل کے نیچے اتنی دیر رکھنا لازم ہے ، جس سے ناپاکی زائل ہونے کا غالب گمان ہو، چنانچہ سائل کے گھر والوں کو اسی طرح کپڑے دھونے کا اہتمام کرنا چاہیئے ، جبکہ چھوٹے بچوں کا جسم یا ان کے کپڑے اگر ناپاک ہوں اور انکو اٹھانے یا گود میں لینے سے ناپاکی کپڑوں میں لگ جائے تو اس سے وہ کپڑے بھی ناپاک ہو جائیں گے ، لہذا ان ناپاک کپڑوں کو بھی مذکورہ بالاطریقہ کے مطابق دھویا جائے ، لیکن اگر کسی کپڑے پر ناپاکی لگنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تو بلاوجہ شکوک و شبہات میں پڑھنا بھی درست نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كمافی الأصل المعروف : لكن لا يشبه البول في الماء البول يصيب الثوب لأنها إذا بالت في البئر فقد صار الماء كله مثل ذلك البول و إذا أصاب الثوب فإنما يصيب منه موضعا واحد ألا ترى أن البول لو أصاب الثوب و هو كثير فاحش لم تجز الصلاة فيه أھ (74/1)۔
و فی مبسوط للسرخسی : العبرة بغلبة الرأي فيما سوى ولوغ الكلب حتى إن غلب على ظنه أنه طهر بالمرة الواحدة يكفيه ذلك لظاهر قوله - صلى الله عليه وسلم - ثم اغسليه فلا يشترط فيه العدد و لكنا نقول غلبة الرأي في العام الغالب لا يحصل إلا بالغسل ثلاثا و قد تختلف فيه قلوب الناس فأقمنا السبب الظاهر مقامه تيسيرا و هو الغسل ثلاثا اھ (1/93)۔
و فی بدائع الصنائع : و لو سقط السخلة من أمھا و ھی مبتلة فہی نجسة حتیٰ لو حملھا الراعی فأصاب بللہا الثوب أکثرمن قدر الدرھم منع جواز الصلاۃ اھ (1/76)۔
و فی المحیط البرھانی : إذا لف الثوب النجس في ثوب طاهر و النجس رطبة مبتلة ، فظهر ندوته على الثوب الطاهر و لكن لم يصر رطباً ، بحيث لو عصر يسيل منه شيء و يتقاطر اختلف المشايخ فيه :
قال شمس الأئمة الحلواني رحمه الله : و الأصح أنه لا يصير نجساً و كذلك الثوب الطاهر اليابس إذا بسط على أرض نجسة مبتلة و ظهر أثر بلة النجاسة في الثوب ، إلا أنه لم يصر رطباً و لم يصر بحال لو عصر يسيل منه شيء و يتقاطر ، اختلف المشايخ ، قال شمس الأئمة رحمه الله : و الأصح أنه لا يصير نجساً ذكر هذين الفصلين في «صلاة المستفتي» (1/190)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 49031کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات