اگر پانی کی ٹینکی ناپاک ہوجائے اور ناپاک ہونے کا پتہ نہیں تھا تو اس ناپاک پانی سے وضو کرکے پڑھی گئی نمازوں کا کیا حکم ہے؟
ناپاک پانی سے وضو کرکے جو نمازیں پڑھی گئیں وہ شرعاً درست ادا نہیں ہوئیں ان کا اِعادہ لازم ہے۔
لما فی الهندیة: واذا وجد فی البئر فارة أو غیرها ولا یدری متی وقعت ول تنتفخ اعاد والصلاة یوم ولیلة اذا كانوا توضؤا منها وغسلوا كل شی اصابه ماؤها وان كانت قد انشفخت أو تفسخت اعادوا صلاة ثلاثة ایام ولیالیها هذا عند ابی حنفیة رحمه الله. (ج۱، ص۲۰)