نجاسات اور پاکی

ناپاک ٹینکی سے وضو کرکے ادا کی گئی نمازوں کا حکم

فتوی نمبر :
33063
| تاریخ :
2018-02-13
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ناپاک ٹینکی سے وضو کرکے ادا کی گئی نمازوں کا حکم

اگر پانی کی ٹینکی ناپاک ہوجائے اور ناپاک ہونے کا پتہ نہیں تھا تو اس ناپاک پانی سے وضو کرکے پڑھی گئی نمازوں کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ناپاک پانی سے وضو کرکے جو نمازیں پڑھی گئیں وہ شرعاً درست ادا نہیں ہوئیں ان کا اِعادہ لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

لما فی الهندیة: واذا وجد فی البئر فارة أو غیرها ولا یدری متی وقعت ول تنتفخ اعاد والصلاة یوم ولیلة اذا كانوا توضؤا منها وغسلوا كل شی اصابه ماؤها وان كانت قد انشفخت أو تفسخت اعادوا صلاة ثلاثة ایام ولیالیها هذا عند ابی حنفیة رحمه الله. (ج۱، ص۲۰)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 33063کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات