کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے متعلق کہ ایک شخص جو امام کی غیر موجودگی میں نماز پڑھاتا ہے اور لحن جلی ولحن خفی کرتا ہے اور تَطّلعُ کی جگہ تَا الطَلِیْعُ اور عَلَی الْاَفْئِدَۃ کی جگہ عَلَی الْآفْدِۃ پڑھتا ہے اور مدّات کی جگہ مد نہیں کرتا اور غیر مدات کی جگہ مد کرتا ہے اور لوگ بھی اسے ناپسند کرتے ہیں اور اکثر غلطیاں کرتا رہتا ہے زبر و زیر وغیرہ کی، تو کیا اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے کہ نہیں؟ از روئے شریعت کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور غلطیوں کی بناء پر نماز فاسد نہیں ہوئی، البتہ اگر کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنیٰ بالکل بگڑ جاتا ہے تو اس سے نماز فاسد ہوجائے گی اس لئے اس قسم کی غلطی بیان کرکے اسکا حکم معلوم کیا جاسکتا ہے، تاہم شخص مذکور کو چاہئے کہ جب امام صاحب حاضر نہ ہو تو خود آگے بڑھنے کے بجائے کسی دوسرے ایسے شخص کو نماز کیلئے کہہ دیا کرے جو تجوید کے مطابق پڑھتا ہو اور اسے اس وقت تک نماز پڑھانے سے احتراز کرنا ضروری ہے جب تک کہ کسی ماہر قاری سے مشق وغیرہ کرکے الفاظ کے درستگی نہ کرلے۔ وﷲ اعلم!
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0