اگر کسی مسبوق کو نماز سے باہر والا آدمی لقمہ یعنی کوئی غلطی بتائے اور مسبوق اس باہر والے آدمی کے بتائی ہوئی غلطی یعنی لقمہ پر عمل کرے تو اس صورت میں مسبوق کی نماز ٹوٹ جاتی ہے یا نہیں؟
جی ہاں! اگر کوئی نماز سے باہر والا شخص مسبوق کو لقمہ دے اور مسبوق اس کے لقمہ کے مطابق فوری طور پر عمل کرلے تو اس سے مسبوق کی نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
فی الفتاوى الهندية : و إن فتح غير المصلي فأخذ بفتحه تفسد . كذا في منية المصلي اھ(1/ 99)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله و كذا الأخذ) أي أخذ المصلي غير الإمام بفتح من فتح عليه مفسد أيضا كما في البحر عن الخلاصة . (1/ 622)۔
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0