کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مذکورہ مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) الہدیٰ انٹرنیشنل کی بانی محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا کہنا ہے کہ عورت کیلئے بال کٹوانے میں کوئی ممانعت نہیں، امہات المؤمنین میں سے ایک کے بال کٹے ہوئے تھے، شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ کیا واقعی کسی ام المؤمنینؓ کے بال کٹے ہوئے تھے؟ اگر عورت کے لئے بال کاٹنا جائز نہیں تو دلیل سے آگاہ کریں۔
(۲) مزید ان کا کہنا ہے کہ قضائے عمری سنت سے ثابت نہیں، صرف توبہ کرلی جائے، قضاء نمازیں ادا کرنے کی ضرورت نہیں، مہربانی فرماکر ان سوالات کا جواب مع دلائل قرآن و حدیث سے دیکر امت کو گمراہ ہونے سے بچائیے۔
(۱) اگر بالوں کی دو، دو نوکیں بن گئی ہوں، یا کوئی اور بیماری ہو یا سر میں جوئیں پڑ گئی ہوں اور بال صاف کئے بغیر اس تکلیف سے بچاؤ کی کوئی صورت نہ ہو تو اس قسم کی ضرورتوں کے تحت بقدرِ ضرورت بال کاٹنے بلکہ استرہ سے صاف کرنے کی بھی گنجائش ہے، مگر عام حالات میں بال اتنے کم کرنا کہ مردوں سے مشابہت ہونے لگے قطعاً ناجائز اور از روئے حدیث ملعون فعل ہے، جبکہ امہات المؤمنین والی حدیث معلول ہے، کہ حضراتِ محدثین نے کئی ایک علتیں بیان کی ہیں، اس لئے مذکور روایت سے ’’فیشن ایبل‘‘ عورتوں کیلئے راہ نکالنا محض خواہش پرستی ہے جس سے احتراز لازم ہے۔ ٭
(۲) درجِ ذیل روایتِ حدیث اور اس جیسی دیگر روایات سے فوت شدہ قضاء، نمازوں کا ذمہ میں اس وقت تک باقی رہنا ثابت ہورہا ہے جب تک انہیں قضاء نہ کرلیا جائے، لہٰذا بلاوجہ اور بلا دلیل اس قسم کا قول اختیار کرنا شرعاً درست نہیں، بلکہ امت محمدیہ میں اختلاف وانتشار پھیلانے کے مترادف ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔ ٭
٭ وفی الدُّر: وفیہ قطعت شعر رأسہا اثمت ولعنت زاد فی البزازیۃ وإن باذن الزوج لأنہ لا طاعۃ لمخلوق۔ الخ (ج٦، ص ٤٠٧)۔
٭ وفی المشکوٰۃ: عن انسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من نسی صلوٰۃ أو نام عنہا فکفارتھا ان یصلیھا اذا ذکرھا وفی روایۃ لا کفارۃ لھا إلا ذٰلک۔ (ص٦١) واللہ اعلم بالصواب
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0