میں نے غسل کیا ، اس کے بعد نیل پالش لگائی ، اس کے بعد کیا میں نماز پڑھ سکتی ہوں ؟ جیسا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ میں نیل پالش میں نماز نہیں پڑھ سکتی ، میر ا سوال یہ ہے کہ میں نے نیل پالش لگانے سے پہلے وضو کیا تھا ، تو کیا
میں وضوکرنے کے بعد نیل پالش لگانے کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ سکتی؟
سائلہ نے اگر وضو یا غسل کرنے کے بعد نیل پالش لگائی ہو اور اس نیل پالش میں کوئی ناپاک چیز شامل نہ ہو ، تو ایسی صورت میں سائلہ کے لیے نیل پالش کے ساتھ نماز پڑھنا جائز اور درست ہو گا ، البتہ اگر نیل پالش کی تہہ جمتی ہو تو وضو ٹوٹنے کےبعد اگلی نماز کے لئے وضو کرنے سے قبل اسے اتار نا لازم ہو گا ، ورنہ وضو اور نماز درست نہ ہو گی۔
قال اللہ تبارک و تعالیٰ : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ) [المائدة : 6 الآیة]
و فی رد المحتار: نعم ذكر الخلاف في شرح المنية في العجين و استظهر المنع ؛ لأن فيه الزوجة و صلابة تمنع نفوذ الماء (قوله : به يفتي) صرح به في الخلاصة و قال : لأن الماء شيء لطيف يصل تحته غالبا اهـ و يرد عليه ما قدمناه أنها و مفاده عدم الجواز إذا علم أنه لم يصل الماء تحته ، قال في الحلية و هو أثبت (قوله : إن صلبا بضم الصاد المهملة و سكون اللام و هو الشديد حلية أي إن كان ممضوغا مضغا متأكدا ، بحيث تداخلت أجزاؤه و صار له الزوجة و علاكة كالعجين شرح المنية ، (قوله : و هو الأصح صرح به في شرح المنية و قال لامتناع نفوذ الماء ، اهم (154/1).
و فى الھندية : و العجين في الظفر يمنع تمام الاغتسال و الوسخ و الدرن لا يمنع اھ (1/13)۔
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0