تدفین

بلا عذرِ شرعی قبر کی منتقلی

فتوی نمبر :
59123
| تاریخ :
2000-02-02
عبادات / جنائز / تدفین

بلا عذرِ شرعی قبر کی منتقلی

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ میں بمقام کوٹ نجیب اﷲ تحصیل وضلع ہری پور کا رہنے والا ہوں آج سے تقریباً ۳۰ سال پہلے میرے والد صاحب مرحوم منور خان کی وفات ہوئی تھی، اور وہ ہمارے گاؤں کے پاس ہی قبرستان میں دفن ہیں، اس قبرستان کے ساتھ ایک برساتی نالہ ہے جس میں بارش کے موسم میں ہمارے گاؤں کا پانی بہتا ہے کافی سالوں سے اس نالہ سے بارش کا پانی بہنے کی وجہ سے قبرستان کی طرف کی زمین کو کاٹ دیا ہے اور اب جو صورت حال ہے وہ یہ ہے کہ اب نالہ میرے والد صاحب مرحوم کی قبر سے صرف چند گز کے فاصلے پر ہے اور ہمیں خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ آئندہ موسم برسات میں قبر اس میں بہہ جائے گی، پانی کو روکنے کیلئے میں کوئی بند وغیرہ تو باندھ نہیں سکتا کیونکہ اس پر بڑا خرچہ آئے گا جو کہ میری ہمت سے باہر ہے، میں چاہتا ہوں کہ آئندہ موسم برسات سے پہلے پہلے میں اپنے والد صاحب کی قبر کو دوسری جگہ منتقل کردوں تاکہ یہ پانی سے محفوظ رہ سکے۔
میں آپ جناب سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں ان حالات میں اپنے والد صاحب کی قبر دوسری جگہ منتقل کرسکتا ہوں؟ اگر کرسکتا ہوں تو مجھے تحریری طور پر اس کا فتویٰ جاری فرمادیں، تاکہ کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں میت کو دفن کرنے کے بعد نکال کر دوسری جگہ منتقل کرنا شرعاً جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: ولا یخرج بعد اہالۃ التراب إلا لحق آدمی کأن تکون الارض مغصوبۃ أو أخذت بشفعتہ۔ الخ(ج۱، ص۶۶۲)۔
وفی الہندیۃ: ولا ینبغی اخراج المیت من القبر بعد ما دفن إلا اذا کانت الأرض مغصوبۃ أو اخذت بشفعۃ کذا فی الفتاویٰ قاضی خان۔ اھـ (ج۱، ص۱۶۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59123کی تصدیق کریں
0     1279
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات