السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
درجِ ذیل دو مسائل کے بارے میں قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ، جناب کی مہربانی ہوگی۔
۱۔ امام مسجد جو کہ حافظِ قرآن بھی ہیں ، نمازِ تراویح بھی پڑھاتے ہیں، اس مناسبت سے مقتدیوں کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی خدمت کی جائے ، شرعاً ان کی اس موقع کی مناسبت انفرادی یا اجتماعی یا عید کے بعد خدمت کی کیا جائز صورت ہے؟ اور کیا ناجائز صورتیں ہیں؟
۲۔ امام مسجد سیاہ رنگ سے اپنی داڑھی اور دیگر بال رنگتے ہیں، جبکہ پوچھنے پر کہتے ہیں کہ یہ سیاہ نہیں، بلکہ ۴۳ نمبر پولی کلر ہے، جوکہ ڈارک براؤن ہے یعنی گہرا بھورا ہے، اور بعرض زینت ایسا کرتا ہوں ، حالانکہ ہمیں اچھی طرح یقین ہے کہ ان کا رنگ بالکل سیاہ ہے ، اور ہمیں گہرے بھورے اور سیاہ کی تمیز بھی آتی ہے ، ہم ادب کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں، لیکن شہر کے دیگر شرفاء ہمیں ہمارے امام صاحب کے بارےمیں ٹوکتے ہیں اس صورت میں کیا کیا جائے؟
۱۔ مذکور امام صاحب کو تراویح کے علاوہ دیگر نمازوں کی امامت پر اگر کچھ وظیفہ دیا جاتا ہے جو محض تراویح کے لیے مختص یا لازم نہ ہو اور نہ ہی امام صاحب کی طرف سے اس پر اصرار ہو تو اس صورت میں غیرضروری سمجھتے ہوئے محض امام موصوف کے اکرام میں مزید کچھ دے دیا جائے تو اس کا لینا اور دینا دونوں درست ہیں ، تاہم بجائے موقعۂ ختم اور آخرِ رمضان میں دینے کے ، کسی دوسرے موقع پر مثلاً درمیان رمضان یا بعد میں دے دیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
۲۔ داڑھی اور دیگر بالوں کو خضاب لگانے کے بارے میں تفصیل ہے اور وہ یہ ہے کہ خالص سیاہ خضاب لگانا جمہور ائمہ اور مشائخ کے نزدیک مکروہ ہے، البتہ امام ابو یوسف اور دوسرے بعض مشائخ بیوی کی خوشدلی کے لیے اس کو جائز کہتے ہیں، تاہم احتیاط اور فتویٰ اس بات پر ہے کہ غازی کے سوا دوسرے لوگوں کو سیاہ خضاب لگانا مکروہ تحریمی ہے جس سے احتراز کرنا ضروری ہے اور خالص سیاہ رنگ کے علاوہ دوسرے کسی بھی رنگ کا خضاب یا مہندی وغیرہ لگانا ، بلاشبہ جائز ، بلکہ مستحب ہے لہٰذا صورتِ مسئولہ میں امام صاحب کے دعویٰ کے مطابق اگرچہ یہ سیاہ رنگ نہیں، مگر لوگوں کے اعتراض سے بچنے کے لیے اس رنگ سے بھی احتراز بہتر ہے۔
ففی الدر المختار: (لا تصح الإجارة لعسب التيس) (إلی قوله) (و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه) ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان. (6/ 55)۔
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (ويفتى اليوم الخ) وزاد فی متن المجمع الإمامة ومثله فی متن الملتقیٰ ودرر البحار (اإلی قوله) وقال العيني في شرح الهداية: ويمنع القارئ للدنيا، والآخذ والمعطي آثمان. (6/ 56)۔
وفیه أیضاً: (قوله: ولو غير محتسب) (إلی قوله) على أن عدم حل أخذ الأجرة على الأذان والإمامة رأي المتقدمين، والمتأخرون يجوزون ذلك اھ(1/ 392)۔
وفی سنن الترمذي: عن أبي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن أحسن ما غير به الشيب الحناء والكتم. (3/ 284)۔
وفی سنن أبي داود: عن أبي ذر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أحسن ما غير به هذا الشيب الحناء، والكتم» اھ(4/ 85)۔
وفی سنن أبي داود: عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد، كحواصل الحمام، لا يريحون رائحة الجنة» اھ(4/ 87)۔
وفی سنن أبي داود: عن جابر بن عبد الله، قال: أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة و رأسه و لحيته كالثغامة بياضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد» اھ(4/ 85)۔
وفی الدر المختار: (اختضب لأجل التزين للنساء والجواري جاز) في الأصح ويكره بالسواد اھ(6/ 756)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله جاز في الأصح) وهو مروي عن أبي يوسف فقد قال: يعجبني أن تتزين لي امرأتي كما يعجبها أن أتزين لها والأصح أنه لا بأس به في الحرب (إلی قوله) ومذهبنا أن الصبغ بالحناء والوسمة حسن كما في الخانية قال النووي: ومذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة وتحريم خضابه بالسواد على الأصح لقوله - عليه الصلاة والسلام - «غيروا هذا الشيب واجتنبوا السواد» اهـ قال الحموي وهذا في حق غير الغزاة ولا يحرم في حقهم للإرهاب ولعله محمل من فعل ذلك من الصحابة اھ(6/ 756)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0