۱۔ نماز عصر سے پہلے چار سنت کا حکم کیا ہے؟ ۲۔ امام سے اگر مقتدی، رکوع، سجدہ وسلام میں سبقت کر لے تو کیا اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
(۲،۱) ۔عصر کی فرض نماز سے قبل چار رکعات پڑھنا مستحب ہے یعنی اگر کسی نے پڑھ لیں تو بہت زیادہ باعثِ ثواب ،اور نہ پڑھنے کی صورت میں کوئی گناہ نہیں، جبکہ مقتدی اگر رکوع، سجود میں امام سے پہلے چلا جائے اور امام کے رکوع اور سجدہ میں آنے تک وہ اسی حالت میں رہے تو ایسا کرنا اگرچہ مکروہ ہے، مگر اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی، جبکہ مقتدی کی نماز سبقت سے اس وقت فاسد ہوتی ہے جب وہ کسی رکن میں امام سے پہلے چلا جائے اور امام کے اس رکن میں آنے سے قبل ہی اس رکن کو تمام کر کے اس سے نکل جائے اور اس رکن کا اعادہ بھی نہ کرے ۔
وفی حاشية ابن عابدين: الخامس: أن يأتي بهما قبله ويدركه الإمام فيهما، وهو جائز لكنه یکره اهـ(1/ 595)۔
وفی الفتاوى الهندية: وندب الأربع قبل العصر والعشاء وبعدها والست بعد المغرب. كذا في الكنز اھ(1/ 112)-