احکام نماز

مقتدی کا رکوع، سجود میں امام سے پہلے چلا جانا- عصر سے قبل چار سنت نماز کا حکم

فتوی نمبر :
59064
| تاریخ :
2006-04-18
عبادات / نماز / احکام نماز

مقتدی کا رکوع، سجود میں امام سے پہلے چلا جانا- عصر سے قبل چار سنت نماز کا حکم

۱۔ نماز عصر سے پہلے چار سنت کا حکم کیا ہے؟ ۲۔ امام سے اگر مقتدی، رکوع، سجدہ وسلام میں سبقت کر لے تو کیا اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۲،۱) ۔عصر کی فرض نماز سے قبل چار رکعات پڑھنا مستحب ہے یعنی اگر کسی نے پڑھ لیں تو بہت زیادہ باعثِ ثواب ،اور نہ پڑھنے کی صورت میں کوئی گناہ نہیں، جبکہ مقتدی اگر رکوع، سجود میں امام سے پہلے چلا جائے اور امام کے رکوع اور سجدہ میں آنے تک وہ اسی حالت میں رہے تو ایسا کرنا اگرچہ مکروہ ہے، مگر اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی، جبکہ مقتدی کی نماز سبقت سے اس وقت فاسد ہوتی ہے جب وہ کسی رکن میں امام سے پہلے چلا جائے اور امام کے اس رکن میں آنے سے قبل ہی اس رکن کو تمام کر کے اس سے نکل جائے اور اس رکن کا اعادہ بھی نہ کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی حاشية ابن عابدين: الخامس: أن يأتي بهما قبله ويدركه الإمام فيهما، وهو جائز لكنه یکره اهـ(1/ 595)۔
وفی الفتاوى الهندية: وندب الأربع قبل العصر والعشاء وبعدها والست بعد المغرب. كذا في الكنز اھ(1/ 112)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59064کی تصدیق کریں
0     1835
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات