کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے متعلق جو لوگ مرنے کے بعد جلادئیے جاتے ہیں یا سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں اسی طرح کوئی درندہ ان کو کھالیتا ہے تو ان کو عذابِ قبر کس طرح ہوتا ہے اور جو فرقہ عذاب قبر کا منکر ہو اس کے متعلق کیا رائے ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں، مہربانی ہوگی۔ المستفتی: عبد اللہ جوزی، فرنٹیر کالونی نمبر۳
جملہ اہلِ سنت والجماعت اس عقیدہ پر متفق ہیں کہ قبر اور برزخ میں اہل ایمان اور اصحابِ طاعات کو لذت و سرور نصیب ہوتا ہے اور کفار و منافقین اور گناہگاروں کو عذاب و تکلیف حاصل ہوتی ہے اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے صریح دلائل کے پیش نظر یہ عقیدہ اتنا مضبوط ہے کہ حضرات فقہاء کرامؒ کا ذمہ دار گروہ عذابِ قبر کے منکر کو کافر کہتا ہے۔ (تسکین الصدور: ص۸۲) ٭
اس کے بعد واضح ہو کہ مرنے کے بعد آدمی جہاں بھی ہو اس کے اجزائے بدن سے بلاشبہ روح کا تعلق رہتا ہے گو نیکوں کی روحیں عِلّیین میں ہوتی ہیں اور بَدوں کی سجّین میں، خواہ کسی کو قبر میں دفن کریں خواہ جلادیں خواہ وہ ڈوب جائے ذرّے ذرّے کے ساتھ روح کا تعلق (بالاتراز فہم) رہتا ہے اس کی نظیر ایک تار برقی ہی کافی ہے تارِ برقی کا تعلق دیکھئے کہاں سے کہاں تک رہتا ہے ایسا ہی روح کا تعلق باوجود علیّین و سجّین میں ہونے کے، بدن کے ساتھ بھی ہے اور ضرور ہے مگر اس کو دنیا کی آنکھیں محسوس نہیں کرسکتیں کیونکہ عالم غیب کے اسرار دنیا دار کی آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں اور نہ دکھایا جانا ہی مناسب ہے، کیونکہ پھر ایمان بالغیب نہیں رہے گا۔ الخ (بحوالہ تسکین الصدور: ص۹۷) ٭
لہٰذا جو لوگ عذابِ قبر کے منکر ہیں وہ ان نصوص اور اجماعِ امت کا انکار کرنے کی وجہ سے راہِ حق سے دُور اور گمراہ ہیں جن کی بات سننے اور اس پر عمل سے احتراز لازم ہے۔ واللہ اعلم!
٭ وفی فتح القدیر: ولا تجوز الصلوٰۃ خلف منکر الشفاعۃ والرؤیۃ وعذاب القبر والکرام الکاتبین لانہ کافر لتوارث ہذہ الامور عن الشارع ﷺ۔ (ج١٠، ص٣٠٤)۔
وفی خلاصة الفتاویٰ: ولا یجوز الصلوٰۃ خلف من ینکر شفاعۃ النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام وینکر الکرام الکاتبین وعذاب القبر وکذا من ینکر الرؤیۃ لانہ کافر۔ (ج١٠، ص۱۴۹)۔
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0