کیا کوئی خاتون اپنے بھائی کی شادی کے اخراجات کیلئے زکوٰۃ دے سکتی ہے؟بھائی نوکری ڈھونڈ رہا ہے اور زکوٰۃ کا مستحق بھی ہے،مگر اسکی ہونے والی بیوی سید ہے،اور کیا اس دی گئی زکوٰۃ سے ولیمہ کا کھانا اس خاتون کیلئے جائز ہے؟
براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں!
سائلہ کے بھائی کے پاس اگر ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر نقدی یا مال تجارت وغیرہ موجود نہ ہو ، تو وہ زکوٰۃ کا مستحق ہے،سائلہ اس کو زکوۃ کی رقم دےسکتی ہے،اس کے بعد وہ اسے شادی کے اخراجات میں خرچ کرے یا کہیں اور سائلہ کی زکوۃ ادا ہوجائے گی،لیکن سائلہ اگر بذات خود زکوۃ کی رقم مذکور بھائی کی شادی کے اخراجات میں خرچ کرے ، تو اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی،جبکہ مذکور بھائی اگر سائلہ کے دئیے ہوئی زکوۃ کے پیسوں سے کھانے کا انتظام کرے ، تو اس میں سے سائلہ بھی کھاسکتی ہے،لہذا سائلہ کو چاہئیے کہ رقم خود خرچ کرنے کے بجائے مذکور بھائی کو مالکانہ طور پر دیدے ، تاکہ ملکیت تام ہوکر زکوۃ ادا ہوجائے،مذکور رقم سائلہ کا بھائی اپنی سید بیوی پر بھی خرچ کرسکتاہے،اس میں کوئی حرج نہیں۔واللہ اعلم
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0