السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! ہم گزشتہ 6 ماہ سے ایک دینی ادارہ چلا رہے ہیں جس کے لئے ایک خاتون نے اپنے شوہر کے ایصالِ ثواب کے لئے جگہ عطیہ کی ہے، میرے پاس فی الوقت دو کمرے موجود ہیں، لیکن آئندہ کے لئے ناکافی ہیں جس بابت نئے سرے سے تعمیرات ناگزیر ہیں ،میرے پاس 16 بچے شعبہ حفظ میں ہیں جو صبح 7 بجے سے نماز عصر تک یہاں ہی رہتے ہیں ،ان کے لئے حفظ و دیگر دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بھی معقول بندوبست کیا گیا ہے ، بچے دن کا کھانا گھر سے لاتے ہیں یہاں ادارہ میں انہیں کھانا نہیں دیا جاتا، ان بچوں میں کچھ ضرورت مند مسکین گھرانوں کے بچے ہیں جو فیس نہیں دیتے ،اور کچھ جزوی فیس (500روپے ماہانہ) ادا کرتے ہیں، اس کے علاوہ ناظرہ کے بچے اور بچیاں بھی آتی ہیں جن کی تعداد 30 کے قریب ہے ، فی الوقت میرے پاس 2 اساتذہ کرام (1حفظ اور 1عصری) کام کر رہے ہیں،میں بطورِ مہتمم اور ساتھی بطور ناظم اعلیٰ فی سبیل اللہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، ادارہ دوست احباب کے مالی تعاون سے چل رہا ہے، مستقبلِ قریب میں ہم درسِ نظامی کی کلاسز کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم زکوٰۃ و فطر ہ و چرمہائے قربانی اکھٹی کر سکتے ہیں، اور زکوٰۃ و فطرہ اور چرمہائے قربانی کے پیسوں سے اساتذہ کرام کی تنخواہیں اور بجلی گیس کے بل وغیرہ اور دیگر اخراجات پورے کر سکتے ہیں؟
واضح ہو کہ زکوۃ کا مصرف مستحقِ زکوۃ افراد ہیں، محض طالب علم ہونا یا مدرسے میں طلباء کےقیام کا انتظام ہونا استحقاقِ زکوۃ کے لۓ کافی نہیں ہے، لہذا اگر مذکورہ مدرسہ میں زکوۃ کی رقم براہِ راست مستحق غیر سید طلباء کی ضروریات (مثلاً کھانے، پینے، کپڑے، وظیفے وغیرہ) پر خرچ کرنے کا کوئی انتظام و شرعی طریقۂ کار نہ ہو، تو ان کے لۓ مدرسہ کی تعمیر اور دیگر اخراجات مثلا تنخواہ اور بل وغیرہ کی ادائیگی کے لۓ طلباء کے نام پر زکوۃ اور قربانی کی کھال وصول کرنا جائز نہیں۔
الفتاوی الھندیۃ: لايجوز أن يبنی بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولايجوز أن يكفن بها ميت، ولايقضى بها دين الميت، كذا في التبيين". اھ (کتاب الزکاۃ، 188/1، ط: رشیدیہ)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0